فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 66
إِثْبَاتًا۔{ FR 4968 } اور ہم لوگ اہل حدیث اگرچہ استثناء بخلاف حنفیہ مثبت حکم مانتے ہیں۔اِلاَّ کہتے ہیں حدیث مرفوع صحیح نہیں اور موقوف مرفوع کے مقابلہ حجت نہیں۔چھٹا جواب۔اس موقوف استثناء کا مدلول اشارة ہے اور ابوہریرہ کا نہایت قوی اثر جو جواب میں إِنِّيْ أَكُونُ وَرَاءَ الْإِمَامِ{ FR 4969 }کے۔ابوہریرة نے فرمایا۔اِقْرَأْ بِـھَا الخ { FR 4970 } اور آثار مثبت فاتحہ عبارة ہیں اور اشارہ عبارة کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ساتواں جواب۔استثناءکا مدلول اشارہ ہے اور احادیث مثبتہفاتحہ کی مرفوع منطوق کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔نواں اعتراض ابوسعید سے روایت ہے۔لَاصَلوٰةَ اِلَّا بِفَاتِـحَةِ الْکِتَابِ اَوْ غَیْرِہَا۔{ FR 4971 } اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔فَاتحہ بِـخصوصیة فرض نہیں۔جب فاتحہ فرض نہ ہوئی تو اس کا امام کے پیچھے پڑھنا کیسے ضروری ہو گا۔پہلا جواب۔نَیْلُ الْاُوْطَارِ میں لکھا ہے۔ابن سید الناس کہتے تھے معلوم نہیں ہوا کہ یہ لفظ کہاں سے آیا۔دوسرا جواب۔نَیْلُ الْاُوْطَارِ میں ہے۔ابوسعید سے جیسے ابوداؤد میں ہے۔ابوسعید کہتے تھے ہم حکم دیئے گئے اس بات کا کہ پڑھیں فاتـحة الکتاب اور مَا تَيَسَّرَ اور اسناد اس کا صحیح ہے اور رُواة اس کے ِثقات ہیں۔{ FN 4968 } نفی سے استثناء کرنے کے متعلق جمہور اس طرف گئے ہيں کہ یہ ثابت ہے اور حنفيوں کا موقف ہے کہ یہ استثناء ثابت نہيں ہے۔(ارشاد الفحول، المقصد الرابع فی الأوامر والنواھی والعموم، الفصل الرابع فی الخاص والتخصیص والخصوص، المسألة التاسعة: الاستثناء من النفي والخلاف فيه) { FN 4969 } میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں۔{ FN 4970 } اسے (اپنے دل میں) پڑھ لو۔(القراءۃ خلف الإمام للبخاری) { FN 4971 } سورہ فاتحہ یا کوئی اور سورۃ پڑھے بغير نماز نہيں۔