فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 65 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 65

آٹھواں اعتراض عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ: «مَنْ صَلَّى رَكْعَةً فَلَمْ يَقْرَأْ فِيْهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا وَرَاءَ الْإِمَامِ»۔ترجمہ۔جابر سے وہ نبی صلعم سے۔فرمایا جس نے پڑھی ایک رکعت اور نہ پڑھی اس میں اَلْـحَمْد تو اس نے نماز ہی نہ پڑھی مگر امام کے پیچھے۔اس حدیث میں امام کے پیچھے اَلْـحَمْدُسے ممانعت ہے۔جواب اوّل۔امام مالک اور ترمذی نے اس حدیث کو موقوف روایت کہا ہے نہ مرفوع۔دوسرا جواب۔دارقطنی نے کہا اس کا راوی یحی بن سلام ضعیف ہے اور عبد البرّ نے کہا ہے اس حدیث کو مرفوع کہنا صحیح نہیں بلکہ جابر پر موقوف ہے۔تیسرا جواب۔مرفوع ثابت نہیں جیسے گذرا اور موقوف کی حجیت ممنوع ہے۔چوتھا جواب۔یہ اثر آثار متخالفہ میں سے ہے اور آثار متخالفہ جیسے آتا ہے حجت نہیں ہوتی۔پانچواں جواب۔استثنا آپ کے مذہب میں صدر کے مخالف حکم کا مثبت نہیں پس مقتدی کو قراءت فاتحہ سے منع کا مثبت نہ ہوگا۔دیکھو توضیح والا کہتا ہے۔عِنْدَنَا … أَنَّ الْاِسْتِثْنَاءَ لَا يُثْبِتُ حُكْمًا مُخَالِفًا لِحُكْمِ الصَّدْرِ بِخِلَافِ التَّخْصِيْصِ۔تلویح۔{ FR 4966 }؂ أَنَّ الْاِسْتِثْنَاءَ مِنَ الْإِثْبَاتِ هَلْ هُوَ نَفْيٌ أَمْ لَا فَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ نَفْيٌ إلٰى أَنْ قَالَ وَعِنْدَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ لَا۔اِنْتَهٰى۔ارشاد۔{ FR 4967 }؂ اَلِاسْتِثْنَاءُ مِنَ النَّفْيِ فَذَهَبَ الْجُمْهُورُ إِلٰى أَنَّهٗ إِثْبَاتٌ، وَذَهَبَتِ الْحَنَفِيَّةُ إِلٰى أَنَّ الْاِسْتِثْنَاءَ لَا يَكُونُ { FN 4966 } ؂ ہمارے نزدیک یہ بات ہے کہ تخصيص کے برعکس، استثناء کسی بنيادی حکم کے خلاف حکم ثابت نہيں کرتا۔(التلويح على التوضيح، اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ مِنَ الْكِتَابِ فِي الْأَدِلَّةِ الشَّرْعِيَّةِ، اَلرُّكْنُ الثَّانِي فِي السُّنَّةِ، بَابُ الْبَيَانِ، فَصْلٌ فِي الِاسْتِثْنَاءِ) { FN 4967 }؂ استثناء ثابت شدہ احکام ميں نفی کرتا ہے يا نہيں؟ امام شافعی کے نزديک يہ نفی کرتا ہے اس تک جو اُس نے کہا۔اور امام ابو حنيفہ کے نزديک يہ (حقیقی) نفی نہيں کرتا۔