فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 1 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 1

﷽ الـحمد للہ رب العالمین و الصلٰوة و السلام علیٰ رسولہ محمد خاتم النبیین و سید المرسلین و شفیع المذنبین و علٰی اٰلہٖ و اصحابہٖ اجمعین۔اَمَّا بَعد میرے مہربان دوست شیخ فتح محمد صاحب کے مکان پر کئی آدمی عامل بالحدیث اور کچھ مقلد رہتےتھےاور کبھی کبھی مولوی فضل الدین صاحب گجراتی وہاں تشریف لا کر کچھ نہ کچھ کہتے اور شہر میں بھی عاملین بالحدیث کی صرف زبانی مذمت کیا کرتے۔چونکہ ان کی قلم سے کبھی کوئی تحریر سرزد نہ ہوئی تھی اس لئے ہمیشہ خاموش رہے۔آج مولوی صاحب نے ایک تحریر (جس میں بظاہر اپنے آپ کو علیحدہ رکھا ہے) لا کر شیخ صاحب موصوف کو دی کہ اس کا جواب ان عاملین بالحدیث سے لے دو۔اور ایک اور چھوٹا سا پرچہ شیخ غلام محمد کے دستخط سے دیا کہ اس کا بھی جواب دلائو۔فقیر نے جب شیخ غلام محمد سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا۔میں عالم نہیں میرا نام خواہ مخواہ لکھوایا گیا۔اصل میں یہ تحریر بھی مولوی صاحب ہی کی طرف سے ہے۔عاجز نے عرض کیا کہ اس پر مولوی صاحب کا نام لکھا دو پھر جواب لکھیں گے۔اس تذکرہ کے بعد ان احباب کی خدمت میں جو ہم لوگوں کو ان مناظروں کا بادی سمجھ کر ملامت کیا کرتے ہیں۔گذارش ہے۔؂ تمہیں تقصیر اس بت کی کہ ہے میری خطا لگتی مسلمانوں ذرا انصاف سے کہیو خدا لگتی