فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 2 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 2

مولوی صاحب نے اپنی اس تحریر میں جس میں اپنا نام درج فرمایا۔پہلے بطور سوال و جواب مسئلہ فَاتحةُ الکتاب کو لکھا ہے۔پھر اس پر ایک تفریع سے کام لیا ہے۔بندہ نے جواب میں پہلے مولوی صاحب کا سوال بعینہٖ درج کیا پھر اصل سوال کا جواب حسبِ استعدادخود قرآن و حدیث سے دیا۔اس کے بعد مولوی صاحب کا جواب الجواب اور جواب میں سوال سے زیادہ مسائل ظاہر کر کے ایک خاص سنت کا اقتدا کیا ہے اور تفریع کو نفسانیت کا نتیجہ یقین کر کے اس کے جواب سے سکوت کیا۔دلائل فرضیت فاتـحہ از قرآن کریم سوال بغیر از فاتحہ نماز جایزاست یا نہ۔یعنی قراءت فاتـحة الکتاب بخصوصہ بر مقتدی و منفرد وغیرہ فرض است یا قراءت مطلق ؟ جواب سو ر ة فاتحہ کے سوا نماز اُس شخص کی جو سور ة فاتحہ پڑھ سکے ہرگز درست نہیں اور سور ة فاتحہ کا پڑھنا منفرد اور مقتدی اور امام سب نمازیوں پر ضرو ری اور فرض ہے۔بشرطیکہ ان میں استطاعت قراءت فاتحہ ہو۔قَالَ اللہُ تَعَالٰی۔وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔(الـحشر: ۸) ترجمہ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو لادے تم کو رسول سو لے لو اور جس سے منع کرے سو چھوڑ دو اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔وَ قَالَ تَعَالیٰ۔فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ (النور : ۶۴) ترجمہ۔اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے۔ڈرتے رہیں جو لوگ خلاف کرتے ہیں اس (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم) کے حکم کا کہ پڑے ان پر کچھ خرابی یا پہنچے ان کو دکھ کی مار۔وَ قَالَ تَعَالٰی۔فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا