فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 51
ترغیب و ترہیب میں وارد ہوئے یا عام ہے۔سامع قرآن کے حق میں یا خطبہ اور قراءت فی الصلوٰة دونوں کے حق میں یا رسول اللہ صلعم کی قراءت میں نزولِ قرآن کے وقت یا استماع سے عمل مراد ہے اور آیت تاکید عمل میں ہے یا کفار کے حق میں ہے گو عینی نے کہا ہے اکثر اہل التفسیر علی ان ہذا خطاب المقتدین قال احمد اجتمع الناس علی ان ہذہ الآیة نزلت فی الصلوٰة۔{ FR 4588 } ترجیح اقوال کا محل نہیں اِلاَّ اتنا کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت محتملہ حجت قطعیہ ہونے کے قابل نہیں اور اگر کسی ایسے قول کو ان اقوال سے ترجیح دی جاوے جو آپ کے خلاف ہے اور پھر آپ کو آپ کا قاعدہ وَاقِعَةُ عَيْنٍ لَا عُـمُوْمَ لَهَا { FR 4949 } یاد دلادیں اور کہہ دیں اَلْعِبْرَةُ لِعُمُوْمِ اللَّفْظِ { FR 4950 } میں بھی اختلاف ہے تو ایک کیا اور کئی جوابوں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔اٹھارواں جواب۔اِستماع اور اِنصات آہستہ قراءت کا مانع نہیں اور نہ اس کے خلاف بلکہ آہستہ قراءت کو سکوت کہنا شرعاً ثابت ہے۔عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً قَبْلَ الْقِرَاءَةِ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ بِأَبِيْ أَنْتَ وَأُمِّيْ أَرَأَيْتَ سُكُوْتَك بَيْنَ التَّكْبِيْرِ وَالْقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ؟ قَالَ أَقُوْلُ اللّٰهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِيْ وَبَيْنَ { FN 4588 } (آیت کریمہ وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهُ وَأَنصِتُوْا کے متعلق) اکثر مفسرین اس رائے پر ہیں کہ یہ خطاب مقتدیوں سے ہیں اور امام احمد (بن حنبل) نے کہا: لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ یہ آیت نماز کے متعلق ہے۔(منحة السلوك للعینی في شرح تحفة الملوك، کتاب الصلاة، الفصل في بيان شروط الصلاة وأركانها وواجباتهاوسننها وآدابها) { FN 4949 } ایک خاص واقعہ ہے جوعمومیت نہیں رکھتا۔{ FN 4950 } نصیحت لفظ کے عموم سے ہوتی ہے۔(کشف الأسرار شرح أصول البزدوی، باب معرفۃ أحکام العموم)