فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 50 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 50

بارہواں جواب۔صبح کے وقت اگر کوئی شخص مسجد میں آوے اور اس وقت امام قرا ءت پڑھتا ہو تو حنفی اس شخص کو مسجد کے اندر یا دروازہ کے پاس سنتیں پڑھ لینی جائز بتلاتے ہیں اور یہ کوئی بھی نہیں کہتا کہ سنتیں ایسی جگہ پڑھنی فرض ہیں جہاں امام کی آواز نہ پہنچے معلوم ہوا کہ آیت مخصوص البعض ہے اور مخصوص کی تخصیص ممنوع نہیں۔تیرہواں جواب۔یہ آیت شریف آپ کے بعض علماء کے نزدیک اس واسطے بھی مخصوص البعض ہے کہ انہوں نے ایک ایسے نمازی کے واسطے جو امام کے قراءت پڑھتے وقت شامل جماعت ہو اثناء کا پڑھنا جائز رکھا اور آپ کے بھائی بندوں نے اُن پر وہ فتوے نہیں جمائے جو آہستہ فاتحة الکتاب پڑھنے والوں پر جڑے ہیں۔جب ثناء کا پڑھنا جائز ہوا تو فاتحة الکتاب نے ہی کیا قصور کیا ہے۔چودہواں جواب۔اس آیت میں اَنْصِتُوْا سے عَـمَّا سِوَی الْقُرْآنِ { FR 4947 }؂مراد ہے کیونکہ مدارس قرآن میں کئی آدمیوں کے باہم مل کر قرآن پڑھنے کو تعامل میں آج تک کسی نے منع نہیں کیا۔پندرہواں جواب۔اس حدیث (فاتحة الکتاب کی فرضیت والی حدیث) کو حدیث قِرَاءَ ةُ الْاِمَامِ لَہٗ قِرَاءَةٌ { FR 4948 }؂سے جس کو آپ نے مشہور مانا ہے کیا کمی ہے اور مشہور حدیث سے تخصیص منع نہیں۔سولہواں جواب۔حدیث فرضیت فاتحہ متواتر ہے اور متواتر سے عام کی تخصیص ممنوع نہیں۔ستارہواں جواب۔آیت کے نزول میں اختلاف ہے۔آیا خطبہ کے سماع میں ہے یا قراءت خلف الامام میں یا نَسخ تَکَلُّمْ فِی الصَّلٰوةِ میں یا ان اذکار فی الصلوٰة کے حق میں جو آیات { FN 4947 }؂ جو قرآن کے علاوہ ہے۔{ FN 4948 } ؂ امام کی قراءت ہی اس (مقتدی )کی قراءت ہے۔(ابن ماجہ، کتاب إقامۃ الصلاۃ، باب إذا قرأ الإمام فأنصتوا)