فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 49 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 49

بھی اس وقت اللہ اکبر کے بدلہ پڑھ لینے جائز ہیں اگر کہیے کہ نماز کے باہر یہ الفاظ بولنے جائز ہیں اندر نہیں بول سکتا تو گزارش ہے کہ اس صورت سے بھی آیت اَنْصِتُوْا عام نہ رہی۔اگر کہو تکبیرِ تحریمہ کا حکم آچکا ہے تو عرض ہے پھر بھی آیت عام نہ رہی اور مع ہذا ہم کہتے ہیں فاتحہ کا حکم بھی آ چکا ہے۔دسواں جواب۔آیت شریف وَ اَنْصِتُوْا اس لئے بھی عام مخصوص البعض ہے کہ اگر کوئی صاحبِ ترتیب( صاحبِ ترتیب حنفیوں کے ہاں وہ شخص ہے جو ہمیشہ نمازیں اپنے وقت پرپڑھتا رہا ہو) ایک روز عصر کی نماز سے رہ گیا یہاں تک کہ سورج غروب ہوا اور عصر کی نماز قضا ہو گئی اور جب مسجد میں آیا اس وقت جماعت کھڑی تھی اور امام جہرًا قراءت پڑھتا تھا۔آپ اس کے حق میں یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ وہ پہلے عصر پڑھ لے۔اب جو حسبِ الحکم آپ کے عصر پڑھے گا اور اس میں اللہ اکبر اور ثناء اور فاتحة الکتاب اور سورہ اور تشہد اور درود اور دعا وغیرہ اذکار نماز پڑھے گا بتایئے اُس کا حقیقی اِنْصَات اس جگہ کہاں گیا۔اگر فرمائو کہ وہ اور جگہ جاکر نماز پڑھے جہاں امام کی آواز نہ پہنچے تو فرمایئے اور جگہ جانے کی فرضیت آپ کی کتابوں میں کہاں بیان ہے۔جب اور جگہ جانا فرض نہیں تو اسے اختیار ہے کہ نہ جائے۔گیارہواں جواب۔عینی وغیرہ نے لکھا ہے کہ جمعہ کا خطبہ پڑھتے وقت اگر کوئی نمازی آوے اور یاد کرے کہ میں نے صبح کی نماز نہیں پڑھی تو اس کو حالتِ خطبہ میں نماز قضا شدہ کی ادا جائز ہے دیکھو یہاں جہراً خطبہ میں اگر امام قرآن پڑھتا تھا تو اداءِ صلوٰة صبح میں اِسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا کا عموم آپ لوگوں نے باطل کر دیا اور معلوم ہوا کہ آیت مخصوص البعض ہے اور عام مخصوص البعض کی تخصیص ممنوع نہیں لطیفہ یہاں ہمارے حنفی بھائیوں کو اِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ فَلَاصَلوٰةَ وَلَاکَلَامَ { FR 4946 }؂ہی بھول گیا۔{ FN 4946 }؂ جب امام (خطبہ کے لئے) باہر نکل آئے تو کوئی نمازنہیں اور نہ ہی کوئی گفتگو۔(المبسوط للسرخسی، کتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة، شروط الجمعة)