فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 47
نہیں۔القرآن معرف باللام اور حنفیہ کے اس اصل کو کہ الف لام میں عہد اصل ہے اگر مدِّنظر رکھیں اور بالتخصیص فاتحہ کے اَدِلَّہ کو دیکھیں تو کوئی تعارض نہیں تطبیق سہل ہے حق یہ کہ خاص فاتحہ کے ثبوت میں اَدِلَّہ قَوِیَّہ نصًّا موجود ہیں اور صریح منع فاتحہ پر کوئی نص نہیں۔دوسرا جواب۔اَمَرَبِالشَّیْ ءِ اس کی ضد کی نہی کا مستلزم نہیں۔دیکھو اپنا اصول پس مطلق قراءت یا قراءت فاتحہ کی نہی اس آیت سے نہ نکلی۔تیسرا جواب۔استماع کی تخصیص جہری نمازوں کےساتھ اور انصات کے سریہ کے ساتھ مستلز م ظنیّت عموم ہے اور پھر جب آیت عام مخصوص البعض ہو گئی تو اس کی تخصیص احادیث مثبتہ فاتحہ سے ممنوع نہ ہوئی۔چوتھا جواب۔یہ آیت اپنے عموم و اطلاق پر بالکل نہیں۔کیونکہ اس کے معنے ہیں جب پڑھا جاوے قرآن اس کا استماع کرو اور چپ رہو پس حسبِ اقتضائے عموم و اطلاق آیت اگر کوئی شخص مشرق میں قرآن پڑھے تو اس وقت مغرب والوں کو اس کا سننا اور چپ رہنا ضرور ہوا۔مشرق مغرب کا ذکر کیوں کروں۔ایک شہر بلکہ ایک مسجد میں چند آدمیوں کو علیحدہ علیحدہ ایک وقت میں کوئی نمازنفل یا فرض جائز نہ ہو۔اس لئے کہ آیت میں امام اور مقتدی کے یا سامع اور قاری کے قرُب بُعد کا ذکر نہیں۔جیسے امام کی جہری قراء ت میں ان مقتدیوں کو جو امام سے ایسے دوری پر کھڑے ہیں جس میں ان کو امام جی کی آواز نہیں پہنچتی یا نزدیک میں استماع سکوت واجب ہے اور ِسرّی قراءت کے وقت نزدیک و دُور کے مقتدیوں کو اِنْصَات واجب ہے۔ایسے ہی اس قاری کی قراء ت پر جو امام نہیں ان لوگوں کو جو اس کے سوا ہیں استماع اور اِنْصَات فرض ہو۔جملہ شرطیہ کے مقدم اِذَا قُرِئَ میں تخصیص امام اور تالی جملہ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ میں تخصیص مقتدی نسخ کا باعث ہو گئے علاوہ بریں جب عام مخصوص ہو گیا تو اس کی تخصیص خبرِواحد سے ممنوع نہ ہو گی۔یاد رہے اِذَا کے ظرف ماننے میں بھی سوال وارد ہے۔