فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 46
دہم۔ایضاً۔حدیث لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَصَاعِدًا۔{ FR 4893 } صرف فَاتِـحَةُ الْکِتَابِ پڑھنے والوں پر الزام ہے۔یازدہم۔قِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهٗ قِرَاءَةٌ۔{ FR 4894 } پر صحابہ کا اجماع ہے۔دوازدہم۔قِرَاءَت خلف امام پر وعید۔بلکہ فسادِ صلوٰة ثابت ہے۔سیزدہم۔علمائے حنفیہ نے کراہت فاتحة الکتاب خلف الامام پر فتویٰ دیا ہے۔چہاردہم۔علمائے حنفیہ فاتحة الکتاب کا خلف الامام پڑھنا مفسدِ صلوٰ ة کہتے ہیں۔پانزدہم۔قِرَائَ تْ خَلْفُ الْاِمَامِ عقل کے خلاف ہے اور اس میں امام کا مناظرہ ہے۔جہاں تک میں نے سنا ہے یہی اعتراض فاتحة الکتاب پڑھنے والوں پر ہوا کرتے ہیں۔سو ان کے جوابات بترتیب عرض ہوتے ہیں۔مولوی فضل الدین صاحب نے بھی جس قدر اعتراض کئے وہ انہیں میں سے ہیں پس ان کے جواب میں ان کا جواب انشاء اللہ تعالیٰ موجود ہو گا۔شعر وہ دل جس کو سمجھے تھے دریائے خون کا جو چیرا تو اک قطرۂ خون نہ نکلا پہلےاعتراض کی تفصیل۔قرآن کریم میں آیا ہے۔اِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَانْصِتُوْا۔ترجمہ۔جب پڑھا جاوے قرآن تو اسے سنو (حنفی کہتے ہیں جہر میں) اور چپ رہو (حنفی کہتے ہیں ِسرِّی نماز وں میں) جہری اور ِسرِّینمازوں کا ذکر علی قاری اور عینی وغیرہ نے کیا ہے اور استماع اور اِنْصَات لِلْقُرْآن کا حکم فاتـحة الکتاب پڑھنے کو صاف منع کر تا ہے۔اس اعتراض کا پہلا جواب۔آیة شریفہ میں القرآن مُعَرَّف بِاللَّام ہے۔القرآن مُعَرَّف بِاللَّام کے استماع اور احادیث مثبتہ خاص فاتحة الکتاب کی قراءت میں قطعی تعارض بالکل { FN 4893 } اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۂ فاتحہ اور اس سے کچھ زائد نہ پڑھا۔(سنن أبي داود، کتاب الصلاة، أبواب تفریع استفتاح الصلاة، بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ) { FN 4894 } امام کی قراءت ہی اس (مقتدی )کی قراءت ہے۔(ابن ماجہ، کتاب إقامۃ الصلاۃ، باب إذا قرأ الإمام فأنصتوا)