فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 38
وَتَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ثُمَّ تَرْكَعُ حَتّٰى يَطْمَئِنَّ صُلْبُكَ ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ حَتّٰى يَسْتَقِيْمَ صُلْبُكَ فَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هٰذَا فَقَدْ نَقَصْتَ مِنْ صَلَاتِكَ۔{ FR 4582 } (یاد رکھو زیاد تی ثقہ کی مقبول ہے اور آپ کو اس میں انکار نہیں۔مولوی صاحب آپ نے بخاری کے مجمل جملہ سے عجب استدلال کیا ہے جس کو بخاری ہی کی کتاب جزء القراء ة نے اچھی طرح باطل کر دیا۔سچ ہے اَلْقُرْآنُ یُفَسِّرُ بَعْضُہٗ بَعْضًا وَ الْـحَدِیْثُ یُفَسِّرُ بَعْضُہٗ بَعْضًا۔{ FR 4880 } دوسرا جواب۔اس حدیث کو امام احمد حنبلؒ اورابودائود اور نسائی نے رفاعہ سے یوں روایت کیا ہے۔فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ بِهٖ وَ إِلَّا فَاحْمَدِ اللهَ وَكَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ۔وَفِيْ رَوَايَةٍ لِأَبِيْ دَاوٗدَ مِنْ حَدِيْثِ رِفَاعَةَ: ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَبِمَا شَآءَ اللهُ۔{ FR 4583 } اور امام احمد اور ابن حباّن نے اسی { FN 4582 } محمود (بن اسحاق) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: امام بخاریؒ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: عبد اللہ بن سُوَید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عیاش سے، عیاش نے بکر بن عبد اللہ سے، بکر نے علی بن یحيٰ سے، علی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص حضرت ابوسائبؓ سے روایت کی (انہوں نے کہا) کہ ایک آدمی نے نماز پڑھی اور نبی ﷺ اسے دیکھ رہے تھے۔جب اس نے اپنی نماز ختم کی تو آپؐ نے فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔آپؐ نے (ایسا) تین بار فرمایا۔اس پر وہ شخص (دوبارہ نماز پڑھنے کے لیے) اُٹھا۔پھر جب اُس نے اپنی نماز مکمل کرلی تو نبی ﷺ نے فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو۔ایسا تین دفعہ ہوا۔پھر اس نے آپؐ سے قسم کھا کر پوچھا کہ آپؐ کیسی کوشش چاہتے ہیں؟ آپؐ نے اُس سے فرمایا: (نماز) شروع کرو تو اللہ اکبر کہو ، اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرو اور اُمّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) پڑھو۔پھر رکوع کرو یہاں تک کہ تمہاری کمر پر اطمینان ہو۔پھر اپنا سر اُٹھاؤ حتی کہ تمہاری کمر سیدھی ہوجائے۔پس اس میں سے جو (بھی) تُو نے کم کیا تو تُو نے اپنی نماز میں نقص ڈالا۔(القراء ة خلف الامام للبخاری‘ باب ھل یُقْرَأُبِاَکْثَرِ مِنْ فَاتِحَةِ الکِتَابِ خَلْفَ الامام) { FN 4880 } قرآن کا ایک حصہ دوسرے (حصہ) کی وضاحت کرتا ہے اور حدیث کا ایک حصہ دوسرے کی وضاحت کر دیتا ہے۔{ FN 4583 } پھر اگر تمہیں قرآن (میں سے کچھ) ياد ہو تو اسے پڑھو، وگرنہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور کبریائی بیان کرو اور لا الہ الا اللہ کہو۔اور ابو داؤد کی ایک روایت جو حضرت رفاعہؓ کی حدیث ہے، میں یہ ہے: پھر تم امّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) پڑھو اور (وہ بھی پڑھو) جس کی اللہ تعالیٰ توفیق دے۔(سنن أبی داوٗد، کتاب الصّلاة، أبواب تفریع استفتاح الصلاة، بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَّا يُقِـيْمُ صُلْبَهٗ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ)