فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 36 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 36

صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ أُمِّ الْقُرْآنِ { FR 4875 }؂۔آپ نے دیکھا کہ اس حدیث کا متواتر ہونا کیسے امام کے قول سے ثابت کردکھلایا ہے جس کے حق میں آپ کے اصول کی پہلی کتاب کی شرح فصول الحواشی میں اصول شاشی کے جو اس قول کے نیچے۔قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ تَكْثُرُ لَكُمُ الْأَحَادِيْثُ مِنْ بَعْدِيْ فَإِذَا رُوِيَ لَكُمْ عَنِّيْ حَدِيْثٌ فَاعْرِضُوهُ عَلٰى كِتَابِ اللهِ فَمَا وَافَقَ فَاقْبَلُوْهُ وَمَا خَالَفَ فَرَدُّوْهُ { FR 4579 }؂ ماتن مذکور کے حدیث پر فَاِنْ قُلْتَ سے طعن کر کے جواب میں یوں فرمایا ہے۔و الجواب عنہ ان امام محمد بن اسماعیل البخاری اور و ہٰذا الحدیث فی کتابہ وھو امام ہذہ الصنعة فکفٰی بہٖ دلیلًا علی صحّة فلم یلتفت الی طعن غیرٍ بعدہ۔{ FR 4580 }؂ آپ کے اصول والوں نے تو امام بخاری کا فرمانا کافی دلیل ماناہے۔مجھے امید ہے کہ اب آپ کو بھی انکار نہ ہوگا۔اگرچہ ہم کو اس جواب میں کوئی کلام ہو جس کا عمدہ ایک نتیجہ اخیر میں لکھیں گے۔(یہ مقام یاد رہے) مولوی صاحب آپ فَاقْرَءُوْاوْا مَا تَيَسَّرَ کی آیت سے یہ بات نکالتے ہیں کہ ہر نمازی کے لئے مطلق قراءت فرض ہے خصوصیت فاتحہ کو دخل نہیں۔نمازی کو اختیار ہے قرآن کریم کا جو حصہ چاہے پڑھے۔فاتحہ ہو یا کوئی اور آیت اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ آیا یہ اختیار ہمیشہ کے لئے آپ آیت شریفہ سے نکالتے ہیں یا ایک دفعہ کے لئے اگر استمراری اختیار لیجیے تو ہرعاقل { FN 4875 }؂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ خبر تواتر کے ساتھ آئی ہے کہ ام القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) کی قراءت کے بغیر نماز نہیں۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ، صفحه۷) { FN 4579 }؂ (نبی) علیہ السلام نے فرمایا: میرے بعد کثرت سے احادیث تم سے بیان کی جائیں گی۔پس جب تم سے میرے متعلق کوئی حدیث بیان کی جائے تو اسے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر پرکھ لو۔پھر جو (اللہ تعالیٰ کی کتاب کے) مطابق ہو اُسے قبول کرلو اور جو (اس کے) مخالف ہو، اُسے ردّ کردو۔{ FN 4580 }؂ اگر تم (تَكْثُرُ لَكُمُ الْأَحَادِيْثُ والی روایت کی) بات کرو تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ یہ حدیث اپنی کتاب میں لائے ہیں اور وہ اس فن کے امام ہیں۔پس (اس کی) صحت پر یہ دلیل کافی ہے پھر اس کے بعد کسی دوسرے کی جرح پر کیونکر توجہ کی جائے گی۔