فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 35 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 35

سیوم۔اگر شہرت میں عدم اختلاف تابعین شرط ہوتا جیسے عینی نے فرمایا ہے توقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ { FR 4870 }؂ اور حدیث إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوْا{ FR 4871 }؂ بھی بلحاظ اس شرط کے احادیث مشہورہ سے نہ ہوتیں۔کیونکہ قراءت خلف الامام میں بھی تابعین کا اختلاف تھا جسے ہم ثابت کر دکھلائیں گے۔پس جو جواب آپ لوگ ان احادیث کے اثباتِ شہرت میں دیں گے وہی بعینہٖ ہمارے جواب بھی سمجھیے۔اور محتمل کے جواب یہ ہیں۔اوّل لَا تُجْزِ ئُ کی روایت میں آپ کا احتمال ہے کہاں۔دویم۔نفی میں نفی ذات اصل ہے۔سیوم۔نفی صحت اقرب مجازین ہے۔چہارم لَاصَلوٰةَ لِـجَارِ الْمَسْجِدِ { FR 4872 }؂ اور لَاصَلوٰةَ لِآبِقٍ{ FR 4873 }؂ میں جَار اور آبِق دونوں کی صحت صَلوٰةَ پر ایک اور دلیل جواز کے قیام نے نفی فضیلت یا نفی کمال کے لینے پر مجبور کیا ہے۔اگر وہ دلیل نہ ہوتی تو یہ معنے ہرگز نہ لئے جاتے اور حدیث وَلَوْبِفَاتِـحَةِ الْکِتَابِ { FR 4874 }؂ اور اس کی مجبوری کا جواب عنقریب آتا ہے۔اصل استدلال کا۔اٹھارواں جواب۔حدیث لَاصَلوٰةَ کی متواتر ہے اور متواتر سے تخصیص بالاتفاق جائز ہے۔متواتر اس لئے ہے کہ امام بخاری نے رسالہ قراءة میں فرمایا ہے وَتَوَاتَرَ الْخَبَـرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ { FN 4870 }؂ امام کی قراءت ہی اس (مقتدی )کی قراءت ہے۔(سنن الدارقطنی، کتاب الصلاۃ، باب ذکر قولہ ﷺ من کان لہ إمام فقراءۃ الإمام لہ قراءۃ) { FN 4871 }؂ جب (امام) قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔(مسلم، کتاب الصلاة، باب التشھد فی الصلاة) { FN 4872 }؂ مسجدکے ہمسائے میں رہنے والے کی (گھر میں پڑھی جانے والی) نماز نہیں۔(الفوائد المجموعة للشوکانی، کتاب الصلاة) { FN 4873 }؂ مفرور(غلام) کی نماز نہیں۔(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، کتاب الصلاة، باب الإمامة والحدث فی الصلاة) { FN 4874 }؂ خواہ سورۂ فاتحہ ہی (پڑھے) (سنن أبي داود، کتاب الصلاة، أبواب تفریع استفتاح الصلاة، باب من ترک القراءة فی صلاتہ بفاتحة الکتاب)