فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 34 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 34

اوّل۔یہ حدیث مشہور نہیں کیونکہ مشہور کی تعریف میں آیا ہے۔اَلْمَشْھُوْرُ مَا تَلَقَّاہُ التَّابِعُوْنَ۔{ FR 4865 }؂ اور اس مسئلہ میں تابعین نے اختلاف کیا ہے۔دویم۔یہ حدیث محکم نہیں بلکہ محتمل ہے اور مشہور اگر محتمل ہو تو قابلِ حجت نہیں محتمل تو اس لئے ہے کہ اس حدیث میں لاصلوٰة کی نسبت کہہ سکتے ہیں لَا فَضِیْلَةَ صَلوٰةٍ { FR 4866 }؂ جیسے لَاصَلوٰةَ لِـجَارِ الْمَسْجِدِ{ FR 4867 }؂ (یاد رہے یہ حدیث موضوع ہے) اور لَاصَلوٰةَ لِآبِقٍ { FR 4868 }؂ میں۔اور حدیث لَوْ بِفَاتِـحَةِ الْکِتَابِ { FR 4869 }؂ اس نفی فضیلت پر مجبور کرتی ہے۔اوّل جواب۔تو یہ ہے کہ ہم نے صرف مشہور ہو نے پر دلیل کا مدار نہیں رکھا۔دویم۔شامی نے مشہور حدیث کی تعریف میں لکھا ہے کہ الْمَشْهُورُ فِيْ أُصُولِ الْحَدِيْثِ مَا يُرْوِيْهِ أَكْثَرُ مِنَ اثْنَيْنِ فِيْ كُلِّ طَبَقَةٍ مِنْ طَبَقَاتِ الرُّوَاةِ وَلَمْ يَصِلْ إلٰى حَدِّ التَّوَاتُرِ وَفِيْ أُصُولِ الْفِقْهِ مَا يَكُونُ مِنَ الْاَحَادِ فِي الْعَصْرِ الْأَوَّلِ أَيْ عَصْرِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ يَنْقُلُهٗ فِي الْعَصْرِ الثَّانِيْ وَمَا بَعْدَهٗ قَوْمٌ لَا يُتَوَهَّمُ تَوَاطُؤُهُمْ عَلَى الْكَذِبِ۔{ FR 4577 }؂ یہ شامی کا قول صرف آپ لوگوں کی خاطر مرقوم ہوا۔{ FN 4865 }؂ مشہور (روایت) وہ ہے جسے تابعین نے اختیار کیا ہو۔(البناية شرح الهداية للعینی، کتاب الصلاۃ، باب فی صفة الصلاة، سنن الصلاة، الواجب من القراءة في الصلاة) { FN 4866 }؂ اس نماز کی فضیلت نہیں۔{ FN 4867 }؂ مسجدکے ہمسائے میں رہنے والے کی (گھر میں پڑھی جانے والی) نماز نہیں۔(الفوائد المجموعة للشوکانی، کتاب الصلاة) { FN 4868 }؂ مفرور(غلام) کی نماز نہیں۔(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، کتاب الصلاة، باب الإمامة والحدث فی الصلاة) { FN 4869 }؂ خواہ سورۂ فاتحہ ہی (پڑھے) (سنن أبي داوٗد، کتاب الصلاة، أبواب تفریع استفتاح الصلاة، باب من ترک القراءة فی صلاتہ بفاتحة الکتاب) { FN 4577 }؂ اصولِ حدیث میں مشہور وہ (روایت) ہے جسے راویوں کے طبقات کے ہر طبقہ میں سے دو سے زیادہ (راوی) روایت کریں اور وہ متواتر کے مقام تک نہ پہنچے۔اور اصولِ فقہ کے مطابق (مشہور روایت) وہ ہے جو پہلے زمانہ یعنی صحابہ کے دَور میں خبر واحد میں سے ہو۔پھر دوسرے زمانے اور اس کے بعد (کے دَور) میں ایک جماعت اسے نقل کرتی ہو، جن کا جھوٹ پر متفق ہوجانے کا گمان نہ ہوسکے۔(رد المحتار على الدر المختار،کتاب الطھارة، باب المسح علی الخفین، شروط المسح علی الخفین)