فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 33 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 33

من الاحادیث الواردة (انتہٰی)۔{ FR 4576 } ؂ سولہواں جواب۔عام اکثر علما کے نزدیک ظنیّ ہے۔الاکثر علی انہ ظن محتمل للخصوص۔انتہٰی{ FR 4859 }؂ مسلم۔اور آپ کے علما سے بھی الشیخ الامام علم الہدی ابومنصور ماترُیدی وغیرہ اسی طرف گئے ہیں اور آپ لوگ اثباتِ تقلید میں حدیث اِبْتَغُوا السَّوَا دَ الْاَعْظَمَ۔{ FR 4860 }؂ سے استدلال پکڑا کرتے ہیں۔سواد ِاعظم سے جب عام کا ظنی ہونا ثابت ہوا تو آپ کو عام کے ظنی ہونے سے انکار نہ کرنا چاہیے۔جب ظنی ہوا تو اس کی تخصیص ممنوع نہیں۔سترہواں جواب۔ماناکہ قطعی ہے اور اس کی تخصیص خبرِاحاد سے درست نہیں۔مگر یہ حدیث لَاصَلٰوةَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَءْ۔{ FR 4861 }؂ مشہور ہے اور یہ حدیث قِرَاءَةُ الْاِمَامِ لَہٗ قِرَاءَ ةٌ { FR 4863 }؂ کی حدیث اور اِذَا قَرَأَ فَاَنْصِتُوْا { FR 4864 }؂ کی حدیث سے کسی طرح کم نہیں۔جب ان احادیث کو احادیث مشہورہ کہہ کر جیسا عینی نے کہا ہے قرآنی عموم فَاقْرَؤُا کو کل حنفیوں نے مخصص مان لیا تو لَاصَلوٰةَ والی حدیثوں کو مشہور ماننے سے کون امر مانع ہے۔میرے مذکورہ بالا کلمات میں دو اور اعتراض عین تحریر میں واقع ہوئے۔{ FN 4576 } ؂ لیکن یہ (آیت فَاقْرَءُوْا) بالاجماع نصّ مخصوص البعض ہے۔چونکہ رکوع پانے والے اور قراءت نہ کرسکنے والے کو بلااختلاف اس (آیت) سے الگ کیا گیا ہے پس چاہیے کہ (اس معاملہ میں) مروی بہت سی احادیث کی گواہی سے مقتدی کو بھی اس (آیت) سے الگ سمجھا جائے۔{ FN 4859 }؂ اکثر علماء کے نزدیک یہ (یعنی خبرواحد) ظنی ہے، (اس سے) تخصیص کرنا جائز ہے۔{ FN 4860 } ؂ بڑی اکثریت کی پیروی کرو۔(المستدرک علی الصحیحین، کتاب العلم، ذكر من شذ شذ في النار) { FN 4861 }؂ جس نے (سورہ فاتحہ) نہ پڑھی اس کی نماز نہیں۔(بخاري,كتاب الآذان, بَابُ وُجُوبِ القِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالمَأْمُومِ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا) { FN 4863 } ؂ امام کی قراءت ہی اس (مقتدی )کی قراءت ہے۔(سنن الدارقطنی، کتاب الصلاۃ، باب ذکر قولہ ﷺ من کان لہ إمام فقراءۃ الإمام لہ قراءۃ) { FN 4864 }؂ جب (امام) قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔(مسلم، کتاب الصلاة، باب التشھد فی الصلاة)