فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 27
بعضھم وضعتہ الزنادقة و ایضًا ھو مخالف لِقَوْلِہٖ تَعَالٰی مَا اَتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَـخُذُوْہُ فصحة ہذاالـحدیث یستلزم وضعہ وردہ فھو ضعیف مردود انتہٰی۔و فی الارشاد قال یـحی بن معــیـن انہ موضوع وضعتہ الزنادقة وقال عبد الرحمن بن مہدی الـخوارج وضعوا حدیث مااتاکم عنی فاعرضوہ علی کتاب اللہ۔تلویح میں لکھا ہے۔بِأَنَّهُ خَبَرُ الْوَاحِدِ وَقَدْ خُصَّ مِنْهُ الْبَعْضُ أَعْنِي الْمُتَوَاتِرَ وَالْمَشْهُوْرَ فَلَا يَكُونُ قَطْعِيًّا فَكَيْفَ يُثْبِتُ بِهٖ مَسْأَلَةَ الْأُصُولِ عَلٰى أَنَّهٗ يُخَالِفُ عُمُوْمَ قَوْلِهٖ تَعَالٰى: وَمَا اَ تَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوْهُ (الحشر:۸) وَقَدْ طَعَنَ فِيهِ الْمُحَدِّثُوْنَ بِأَنَّ فِيْ رُوَاتِهِ يَزِيدَ بْنَ رَبِيْعَةَ، وَهُوَ مَجْهُوْلٌ، وَتَرَكَ فِيْ إسْنَادِهٖ وَاسِطَةً بَيْنَ الْأَشْعَثِ وَالثَوْبَانَ فَيَكُوْنُ مُنْقَطِعًا وَذَكَرَ يَحْيَى بْنُ مُعِيْنٍ أَنَّهٗ حَدِيْثٌ وَضَعَتْهُ الزَّنَادِقَةُ وَ إِيْرَادُ الْبُخَارِيِّ إيَّاهُ فِيْ صَحِيْحِهٖ لَا يُنَافِيْ الِانْقِطَاعَ أَوْ كَوْنَ أَحَدِ رُوَاتِهٖ غَيْرَ مَعْرُوفٍ بِالرِّوَايَةِ۔انتہٰی (اشاعة) { FR 4508 } اِن { FN 4508 } سفر السعادۃ کے مصنف نے کہا ہے کہ یہ (حدیث) موضوع ترین روایات میں سے ہے۔امام ابن حجر عسقلانی نے کہا: یہ ایسے واسطوں سے آئی ہے جو جرح سے خالی نہیں ہیں۔ان میں سے ایک نے تو یہ بھی کہا ہے کہ اسے زندیقوں نے بنایا ہے اور اسی طرح یہ اللہ تعالیٰ کے قول وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَـخُذُوْهُ کے بھی خلاف ہے۔پس اس حدیث کی صحت سےاس کی کمزوری اور اس کا ردّ کیا جانا لازم آتا ہے۔یعنی یہ (روایت) ضعیف اور مردود ہے۔اور ارشاد (یعنی ارشاد الفحول) میں ہے کہ یحيٰ بن معین نے کہا: یہ (روایت) موضوع ہے جسے زندیقوں نے بنایا ہے۔اور عبد الرحمٰن بن مہدی نے کہا ہے کہ خوارج ہیں جنہوں نے یہ حدیث کہ میرے متعلق جو تم سے بیان کیا جائے اسے کتاب اللہ پر پرکھو، بنائی ہے۔یہ (روایت) تو خبر واحد ہے اور بعض اقسام جیسے متواتر اور مشہور کو بھی اس سے مخصوص سمجھا گیا ہے حالانکہ یہ (روایت) قطعیت نہیں رکھتی، اس لیے اس سے اصولی مسئلہ کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے۔جبکہ یہ اللہ تعالیٰ کے قول وَمَا اَ تَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَـخُذُوْهُ کی عمومیت کے خلاف ہے اور محدثین نے بھی اس پر جرح کی ہے کہ اس کے راویوں میں سے یزید بن ربیعہ مجہول ہے۔نیز اس کی سند میں اشعث اور ثوبان کے درمیان واسطہ چھوٹا ہوا ہے، اس لیے یہ (روایت) منقطع ہے۔اور یحيٰ بن معین نے ذکر کیا ہے کہ یہ ایسی حدیث ہے جسے زندیقوں نے گھڑا ہے۔اور امام بخاریؒ کا اس روایت کو اپنی صحیح میں لانا اس (کی سند) کے انقطاع یا اس کے راویوں میں سے ایک کے غیر معروف ہونے کی نفی نہیں کرتا۔