فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 23
الاصابع و عثمان و علی بخبر فریعة فی ان عدة الوفات فی منزل الزوج و ابن عباس بـخبرابی سعید الرّبو فِی النَّقد راجعا الی غیر ذالک مـمّا لایعدّ الا بالتَّطویل۔ترجمہ۔خبرِواحد پر عمل درآمد عقلاً جائز ہے۔اس میں جبائی کا (ایک رئیس معتزلہ کا نام ہے) اختلاف ہے۔پھر کہا خبرِواحد عادل پر چلنا اسلام میں واقع ہو چکا ہے۔اس میں شیعہ اور ایک فرقہ کا(یعنی ابن دائود قاسانی کا چنانچہ مختصر ابن حاجب و احکام آمدی میں ان کے نام پر تصریح ہے) اختلاف ہے یہاںتک کہ صاحبِ کتاب نے اس پر اجماع صحابہ سے استدلال کیا ہے اور کہا دوسری دلیل اس پر اجماع صحابہ ہے جس میں حضرت علی مرتضیٰ بھی ہیں (یہ شیعہ کے الزام کے لئے کہا ہے)۔دلیل اس اجماع پر یہ ہے کہ ان کا خبرِواحد سے سند پکڑنا اور کئی واقعات میں جو گنے نہیں جاتے اس پر بلا انکار عمل کرنا بتواتر ثابت ہے۔یہ انکا عمل درآمد یقیناً ان کے اتفاق کو ثابت کرتا ہے جیسے کہ صریح کہنا۔پس ازاں جملہ ان سب کا ابوبکر کی اس حدیث پر عمل کرناکہ امام قریش سے ہوتے ہیں اور اس پر جو آنحضرت نے فرمایا ہے کہ ہم گروہ انبیاء کسی کے وارث یامورث نہیں ہوتے اور اس پر کہ انبیاء جہاں فوت ہوتے ہیں وہیں دفن کئے جاتے ہیں۔اور حضرت ابوبکر کا حدیث مغیرہ پر جو دادی کی میراث میں ہے عمل کرنا اور حضرت عمر کا حدیث عبدالرحمٰن پر جو جزیہ مجوس میں ہے اور حدیث حمل بن مالک پر جوجنین (حمل گرایا ہوا) کے بدلے لونڈی دلانے میں ہے اور حدیث ضحاّک پر جو عورت کو خاوند کے خون بہا سے وراثت دلانے میں ہے اور حدیث عمروبن حزم پر جو انگلیوں کے خون بہا نے میں ہے عمل کرنا اور حضرت عثمان و حضرت علی کا فریعہ کی حدیث پر جو خاوند کے گھر میں عدت وفات کاٹنے میں ہے عمل کرنا اور حضرت ابن عباس کا ابوسعید کی حدیث پر جو ہاتھوں ہاتھ بیع میں بصورت کمی بیشی کے ہم جنس اشیاء میں ربو ہو جانے کے بیان میں ہے۔اپنے پہلے قول کو چھوڑ کر عمل کرنا۔ان کے سوا اور بہت نظائر میں جو بدوں تطویل شمار میں نہیں آتے۔تمام ہو ا جو مسلم سے نقل کیا گیا۔فواتـح اشاعة دلیل تخصیص عموم قرآنی یہاں تک تو خبر واحد پر عمل کرنے کی دلیل تمام ہوئی۔اب تخصیص عموم قرآنی کی دلیل