فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 20
فَيُخَالِفَهٗ۔(انتہٰی){ FR 5026 } اور حق یہ ہے کہ آپ کو بشرط انصاف ان رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ کے پڑھنے سے خطبہ میں ہرگز ہرگز ہرگز انکار نہ چاہئے۔اوّل تو اس لئے کہ حدیث إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزْ فِيْهِمَا{ FR 4834 } حدیث مرفوع صحیح غیرمعارض ہے اور ایزاد حکم سکوت بہ نسبت امام شرع لَمْ یَأْذِنْ بِہِ اللہ ہے۔دوئم۔اس واسطے کہ آپ کے نزدیک صحابی کا قول حجت ہے اور اس مسئلے میں صحابی کا قول بلامعارض موجود ہے بخاری نے عیاض بن عبد اللہ سے روایت کیا ہے۔أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلَ وَمَرْوَانُ يَخْطُبُ فَجَاءَ الْأَحْرَاسُ لِيُجْلِسُوْهُ فَأَبٰى حَتّٰى صَلّٰى فَقُلْنَا لَهٗ فَقَالَ مَا كُنْتُ لِأَدَعَهُمَا بَعْدَ شَيْءٍ رَأَيْتُهٗ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَخْطُبُ فَجَاءَ رَجُلٌ فَأَمَرَهٗ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ثُمَّ جَاءَ جُمُعَةً أُخْرَىٰ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَّصَّدَّقُوا عَلَيْهِ وَأَنْ يُّصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ۔{ FR 4497 } دیکھو یہاں راوی ہے بعد زمان نبوی عین قراءت خطبہ میں نماز پڑھی اور نسخ و تخصیص کو نہ مانا۔اور آپ کے آثار منع کی دلیل نہیں ہو سکتی۔کیونکہ حدیث امر میں { FN 5026 } میں کسی عالم کے متعلق یہ خیال نہیں کرتا کہ اسے (حدیث کے) یہ لفظ کہ ’’جب تم میں سے کوئی آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ دورکعتیں پڑھے اور چاہیے کہ انہیں مختصر پڑھے‘‘ صحیح سند سے پہنچیں پھر وہ اس کی مخالفت کرے۔{ FN 4834 } جب تم میں سے کوئی آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو چاہیے کہ وہ دو رکعتیں مختصر کرکے پڑھے۔{ FN 4497 } حضرت ابوسعید (خدری) رضی اللہ عنہ (مسجد میں) آئے اور مروان (بن حکم) خطبہ دے رہا تھا تو کچھ محافظ انہیں (یعنی حضرت ابو سعید خدریؓ کو) بٹھانے کے لیے آئے انہوں نے (بیٹھنے سے) انکار کر دیا حتی کہ انہوں نے نماز پڑھی۔پھر ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ایک بات کے بعد مَیں ان دو (رکعتوں) کو نہیں چھوڑ سکتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا۔آپؐ خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص آیا۔آپؐ نے اسے (دو رکعتیں پڑھنے کا) فرمایا تو اس نے دو رکعتیں پڑھیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم خطبہ دے رہے تھے۔پھر وہ اگلے جمعہ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم خطبہ دے رہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اسے صدقہ دیا جائے اور وہ دو رکعتیں پڑھ لے۔