فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 19
آپ لوگوں نے اس حکم کو مورد پر خاص کر رکھا ہے اور کہہ دیا ہے۔وَاقِعَةُ عَيْنٍ لَا عُمُوْمَ لَهَا فَیُخْتَصُّ بِہٖ { FR 4829 } اور صحیح حدیث کے جملہ ( إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَلْيَتَجَوَّزْ فِيْهِمَا۔{ FR 4830 } کو پس ِ پشت ڈال دیا۔اور لفظ اِذَا اور کُمْ کا کچھ لحاظ نہ کیا اور یہ بھی نہ سوچا کہ اِذَا جَآءَ اَحَدُکُمْکا مخاطب صرف سُلَیک بن نہیں سکتا۔اور حدیث إذَا خَرَجَ الْإِمَامُ فَلَا صَلَاةَ وَلَا كَلَامَ۔{ FR 4831 } کوئی مرفوع حدیث نہیں بلکہ زُہری کا کلام ہے۔مرفوع کے سامنے معارضہ کے قابل نہیں اور علیؓ اور ابن عباسؓ وغیرہ کے آثار کَانُوْا یَکْرَہُوْنَ الصَّلٰوةَ عِنْدَ الْـخُطْبَةِ۔{ FR 4832 } مرفوع کے مقابلہ میں حجت نہیں اور ممکن ہے کہ اُن آثار میں اَلصَّلوٰةُ معرّف بِاللَّام سے مراد وہ نماز ہو جو وَلْیَتَجَوَّزْ کے خلاف ہے اور غیر معرّف معرّف پر محمول ہے اور لطف یہ کہ سُلَیک غطفانی کی حدیث میںثُمَّ انْتَظَرَهٗ۔{ FR 4833 } مسند احمد سے روایت کر کے یہ حکم لگا دیا ہے کہ اگر کوئی خطبہ کے وقت آوےتو اس کے واسطے اگر امام خطبہ میں سکوت کر لے تو اسے دو رکعت پڑھ لینی جائز ہیں۔منع نہیں۔حالانکہ ثُمَّ انْتَظَرَهٗ کالفظ کسی مرفوع حدیث میں نہیں۔اور مرسل کی حجیت میں کلام ہے۔اگر مان لیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سُلَیک کے وقت انتظار فرمایا تھا تو پھر بطور آپ کے کہہ سکتے ہیں کہ واقعہ خاص ہے اور اِنْتَظَرَہٗ کی ضمیر اس خصوصیت کی دلیل ہے اور اِذَا جَآءَ اَحَدُکُمْ اپنے عموم پر ہے۔امام نووی نے سچ کہا ہے۔وَلَا أَظُنُّ عَالِمًا يَبْلُغُهٗ هٰذَا اللَّفْظُ (إِذا جَآءَ أَحَدُكُمْ … وَالْإِمَامُ يَـخْطُبُ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَلْيَتَجَوَّزْ فِيْهِمَا) صَحِيْحًا { FN 4829 } ایک خاص واقعہ ہے جوعمومیت نہیں رکھتا اس لیے یہ اس(صحابی) سے ہی مخصوص ہے۔{ FN 4830 } جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو چاہیے کہ وہ دو رکعتیں پڑھے اور چاہیے کہ انہیں مختصر پڑھے۔{ FN 4831 } جب امام (خطبہ کے لئے) باہر نکل آئے تو کوئی نمازنہیں اور نہ ہی کوئی کلام۔{ FN 4832 } وہ خطبہ کے دوران نماز (پڑھنا) ناپسند کرتے تھے۔{ FN 4833 } پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا (دو رکعتیں مکمل کرلینے تک) انتظار فرمایا۔