فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 18 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 18

چوتھا جواب۔آیت شریف کا ماقبل پڑھو اور تمام سورة کریمہ کو دیکھو۔قیام اللیل میں ہے۔اگر قاعدہ اَلْعِبْرَةُ لِعُمُوْمِ اللَّفْظِ لَالِـخُصُوْصِ السَّبَبِ منظور نہیں اور تخصیص ہی کو لینا ہے تو تہجد میں خاص رکھیے۔قرینہ بھی موجود ہے یا مِنَ الْقُرْآنِ کے لفظ سے مجازاً مِنَ الصَّلٰوةِ مراد لیجیے۔اگر کہو حقیقت کا چھوڑنا بے وجہ تویہ جائز نہیں۔مجاز کیوں لیں تو عرض ہے کہ فَاقْرَءُوْا کے امر سے مقتدی‘ منفرد‘ امام‘ سب نمازیوں پر قراءت حقیقتاً فرض تھی۔آپ کے بعض فقہاء نے فَاقْرَءُوْا میں مقتدی کے حق میں قراءت حکمی اور مجازی لے لی۔یا فَاقْرَءُوْا کے مخاطبکو اِذَا قُرِأَ فَانْصُتُوْا کے ذریعہ اس حکم سے ہی علیحدہ کر لیا ہے اور آیت میں تخصیص مان لی۔جیسے مقتدی کی نسبت فَاقْرَءُوْا میں مجاز اختیار کر لیا یا تخصیص مان لی ویسا ہی مِنَ الْقُرْآنِسے بقر ائن مَاسَبَقَ مَـجَا زًا صلوٰة ِتہجد لے کر یا تخصیص کے باعث آیت کو منسوخ کہہ دیجیے۔فقیر نے جو کہا ہے کہ فَاقْرَءُوْا میں قراءت حقیقی مراد ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حقیقت اصل ہے اور مانع موجود نہیں اور خیالی مانع مقلدین کا مانع نہیں۔اور اصول میں ہے۔اِنَّ الْعَمَلَ بِالْـحَقِیْقَةِ اِنْ اَمْکَنَ سَقَطَ الْمَجَازَات۔{ FR 4825 }؂ اور کہا ہے وَ مِنْ حُکْمِ الْـحَقِیْقَةِ وَ الْمَجَازِ اِسْتِحَالَةُ اِجْتِـمَاعِھِمَا۔{ FR 4827 }؂ پانچواں جواب۔ذیل میں ہم انشاء اللہ تعالیٰ ثابت کر دیں گے کہ یہ آیت حنفیوں کے نزدیک ضرور عام مخصوص البعض ہے۔اور عام کی تخصیص کو آپ اور کل حنفی نسخ جانتے ہیں۔پس یہ آیت فَاقْرَءُ وْا حسب ِ قواعد و تسلیم آپ کے ضرور منسوخ ہوئی۔چھٹا جواب۔ماناکہ یہ آیت منسوخ نہیں اِلاَّ کہتے ہیں کہ یہ ایک خاص حادثہ کا ذکر ہے اور حوادث میں مورد پر تخصیص کر لینا آپ لوگ جائز سمجھتے ہیں۔دیکھو جمعہ کے خطبہ میں سُلَـــیْک غَطْفَانیکی حدیث میں یہ آیا ہے۔يَا سُلَيْكُ قُـمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَتَجَوَّزْ فِيْهِمَا۔{ FR 4828 }؂ { FN 4825 }؂ جب (حقیقی معنی لینا) ممکن ہو تو عمل حقیقی معنی کے مطابق ہوگا اور مجازی معنی ساقط ہوجائیں گے۔{ FN 4827 }؂ اور حقیقت اور مجاز کے قاعدہ میں سے ہےکہ ان دونوں کا (ایک لفظ میں) اکٹھے ہوجانا ناممکن ہے۔{ FN 4828 }؂ اے سُلَیک! اُٹھو اور دو رکعتیں پڑھواور انہیں مختصر ادا کرو۔