فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 16 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 16

اس کے کئی جواب ہیں پہلا۔قَالَ الْوَاحِدِيُّ: قَالَ الْمُفَسِّرُوْنَ (فِيْ قَوْلِهٖ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ): كَانَ هٰذَا فِي صَدْرِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ نُسِخَ بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ۔{ FR 4824 }؂ (۱) یہ آیت شریف منسوخ ہے۔واحدی کہتا ہے۔مفسروں نے کہا فَاقْرَؤُا مَا تَیَسَّرَ کی آیت ابتدائے اسلام میں تھی پھر پانچ نمازوں کا حکم آ گیا تو یہ حکم مسلمانوں سے موقوف کیاگیا۔پہلا منسوخ یہی دلیل ہو سکتی ہے۔ہمیں اس جواب میں صرف یہ غرض ہے کہ مولوی صاحب کی دلیل غوایل جرح سے خالی نہیں۔(غوایل کا لفظ یاد رہے) اور جو دلیل غوایل جرح سے محفوظ نہ ہو وہ مولوی صاحب کے نزدیک دلیل کے قابل نہیں۔جیسا کہ انہوں نے اخیر میں اپنے جواب کے لکھا ورنہ خاکسار کی تحقیق نسخ آیات میں وہ ہے جو انشاء اللہ تعالیٰ اس رسالہ کے اخیر یاعلیحدہ عنقریب مطبوع ہو گی۔دوسرا جواب۔حسبِ اصول مسلّمہ مقلدین حنفیہ۔امر تکرار کا مقتضی نہیں۔اس لئے تکرار کا حکم بڑھا لینا ایزاد ہو گا اور ایزاد َعلیَ النَّص کو حنفیہ نسخ جانتے ہیں۔اَلْأَمْرُ بِالْفِعْلِ لَا يَقْتَضِي التَّكْرَارَ { FR 4819 }؂ (اصول شاشی) (الصَّحِیْحُ مِنَ الْمَذْھَبِ) أَنَّهٗ لَا يَقْتَضِي التَّكْرَارَ۔{ FR 4821 }؂ (فصول) ای وھو الزیادة نسخ عندنا خلاف الشافعی { FR 4820 }؂ (مولوی حسامی)کیونکہ تقلید اور تخصیص ابطال وصف اطلاق اور عموم ہے اور دلیل قطعی کا اصل باوصف ظنیّ سے باطل نہیں ہو سکتا۔(دیکھو فصول اور مولوی حسامی اور فواتح الرحموت) { FN 4824 }؂ (التفسیر الوسیط للواحدی، تفسیر سورۃ المزّمل آیت: ۲۰) { FN 4819 } ؂ کسی کام کا امر (اسے)بار بار دُہرانے کا تقاضا نہیں کرتا۔(أصول الشاشی، فَصْلُ الْأَمْر بِالْفِعْلِ لَا يَقْتَضِي التَّكْرَارَ) { FN 4821 } ؂ مذہب یہی ہے کہ یہ (یعنی کوئی امر) تکرار کا تقاضا نہیں کرتا۔(الفصول فی الأصول، فَصْلُ الْأَمْرِ إذَا كَانَ مُطْلَقًا أَوْ مُعَلَّقًا بِوَقْتٍ أَوْ شَرْطٍ أَوْ صِفَةٍ أَنَّهٗ لَا يَقْتَضِي التَّكْرَارَ) { FN 4820 } ؂ یعنی وہ زیادتی ہے جو امام شافعی ؒ کے برعکس ہمارے نزدیک منع ہے۔