فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 188
فقرہ۔سورہ کافرون میں لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَ لِیَ دِیْن کا جملہ عام لوگوں کی زبان پر منسوخ ہے اور فی الواقع منسوخ نہیں کیونکہ دین کے معنی لغت میں جزا اور سزا کے ہیں پس آیت کے معنی یہ ہوئے کہ جس کو تم پوجتے ہو ہم اسے نہیں پوجتے اور جس کو ہم پوجتے ہیں تم نہیں پوجتے۔تم کو تمہاری سزا ہے اور ہم کو ہماری جزا۔دیکھو حماسہ۔ولم يبق سوى العدوان دناهم كما دانوا { FR 5522 }اوركَمَا تَدِينُ تُدَانُ{ FR 5525 } مشہور ہے اور اگر دین کے مشہور معنے لیں تب آیت کا یہ مطلب ہو گا کہ ہرگاہ تم باز نہیں آتے اور سچے معبود ہی کی پرستش نہیں کرتے اور بتوں کی پرستش کرتے ہو۔تو ہم بھی وہ کریں گے جو ہمارے دین میں ہے کہ تم سے بجہاد پیش آویں گے۔غرض آیت جہاد کی مانع نہیں۔فقرہ۔عزیز من خاتمہ خط پر ایک ضروری فائدہ لکھ کر خط کو ختم کرتاہوں۔فائدہ حدیث یا قرآن کریم کے موافق ہے یا قرآن کی تفسیر ہے ایسے حکم کے مثبت ہے جن کا ذکر قرآن میں نہیں۔حدیث زائد علی کتاب اللہ رسول اللہ صلعم کی تشریح ہے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ۔وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ۔دیکھو حدیث سے بھتیجی کا نکاح اس کی پھوپھی پر اور بھانجی کا اس کی خالہ پر حرام ہے۔حدیث سے رضاعت کی حرمت نسبی حرمت کی طرح ثابت ہے حالانکہ قرآن میں اُحِلَّ لَکُمْ مَاوَرَاءَ ذَالِکُمْ عام موجود ہے۔وَلِمَنْ میں رہن کا رکھنا جدّہ کو وارث بنانا بنت الابن کو سدس دلانا ‘ حائض پر روزہ‘ نماز چند روز موقوف سمجھنا نہایت ضعیف خبر سے نبیذ التمر کے ساتھ وضو کر لینا حالانکہ قرآن میں پانی نہ ہو تو تیمم کا حکم ہے۔ادنیٰ مہر کے لئے ضعیف حدیث سے دس درم معین کرنا { FN 5522 } اور ظلم وزیادتی کے علاوہ کچھ باقی نہیں رہا جیسے وہ قریب آئے ویسے ہی وہ بھی اُن کےقریب ہوا۔{ FN 5525 } جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔