فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 182
اکیسویں آیت۔قُمِ اللَّیْلَ اِلَّا قَلِيْلًا آ خر سو ر کے ساتھ منسوخ ہے۔پھر یہ آخر سورہ پانچ نمازوں کے ساتھ منسوخ ہے بات یہ ہے کہ قیام اللیل ایک امر مسنون ہے۔آیاتِ شریفہ میں فرضیت قطعی نہیں اور سنیت قیام اللیل کی بالاتفاق اب بھی موجود ہے۔فقرہ ششم۔ضُعف اور قِلّت کے وقت صبر اور درگذر کا حکم قرآن کریم میں بہت جگہ ہے لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیتیں آیت ِقتال سے منسوخ ہیں۔اور یہ بات صحیح نہیں بلکہ قتال کا حکم تاخیر میں رہا ہے۔سیوطی نے کہا دیکھو باب ناسخ منسوخ اِتّقان میں۔اَلثَّالِثُ: مَا أُمِرَ بِهٖ لِسَبَبٍ ثُمَّ يَزُوْلُ السَّبَبُ كَالْأَمْرِ حِيْنَ الضَّعْفِ وَالْقِلَّةِ بِالصَّبْرِ وَالصَّفْحِ ثُمَّ نُسِخَ بِإِ يْـجَابِ الْقِتَالِ وَهٰذَا فِي الْحَقِيقَةِ لَيْسَ نَسْخًا بَلْ هُوَ مِنْ قِسْمِ الْمُنْسَإِ كَمَا قَالَ تَعَالٰى: {أَوْ نُنْسِهَا} فَالْمُنْسَأُ هُوَ الْأَمْرُ بِالْقِتَالِ إِلٰى أَنْ يَقْوَى الْمُسْلِمُونَ … (إِلٰى أَنْ قَالَ) وَبِهٰذَا يَضْعُفُ مَا لَهِجَ بِهٖ كَثِيْرُوْنَ مِنْ أَنَّ الْآيَةَ فِي ذٰلِكَ مَنْسُوْخَةٌ بِآيَةِ السَّيْفِ وَلَيْسَ كَذٰلِكَ بَلْ هِيَ مِنَ الْمُنْسَإِ بِمَعْنٰى أَنَّ كُلَّ أَمْرٍ وَرَدَ يَجِبُ اِمْتِثَالُهٗ فِي وَقْتٍ مَّا لِعِلَّةٍ يقتضي ذٰلِكَ الْحُكْمَ ثُمَّ يَنْتَقِلُ بِاِنْتِقَالِ تِلْكَ الْعِلَّةِ إِلٰى حُكْمٍ آخَرَ وَلَيْسَ بِنَسْخٍ إِنَّمَا النَّسْخُ اَلْإِزَالَةُ لِلْحُكْمِ حَتّٰى لَا يَجُوزَ امْتِثَالُهٗ۔{ FR 5483 }(یہ حتّٰی لَا یَـجُوز کا لفظ یاد رکھنے کے قابل ہے خصوصاً الآن خَفَّفَ اور أَ أَشْفَقْتُمْ وغیرہ میں) { FN 5483 } اور تیسری بات یہ ہے کہ جو حکم دیا گیا وہ کسی سبب کے باعث تھا پھر وہ سبب ختم ہوگیا جیسے کمزوری اور تنگ دستی کی حالت میں صبر اور درگذر کرنا، پھر قتال کے واجب ہونے کی وجہ سے وہ منسوخ ہوگیا، اور یہ حقیقت میں ہونا ہے نہ کہ (کسی حکم کا) منسوخ ہونا۔بلکہ یہ بھلا دی جانے والی قسم میں سے ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ’’یا ہم اُسے بھلا دیتے ہیں۔‘‘ پس قتال کے سبب سے وہ معاملہ مسلمانوں کے طاقتور رہنے تک بھلا دیا جانے والا ہے …… (یہاں تک کہ انہوں نے کہا:) اور اس وجہ سے وہ کمزور ہوجاتا ہے جو اکثر لوگوں کو شوق ہے کہ اس بارہ میں یہ آیت قتال والی آیت سے منسوخ ہے۔حالانکہ ایسا نہیں ہے۔بلکہ یہ تو بھلا دی جانے والی بات ہے اس معنی میں کہ ہر حکم جو آتا ہے اُس کی تعمیل ایک وقت سے متعلق ہوتی ہے، کوئی علت نہیں ہوتی جو اس حکم کی متقاضی ہو، پھر اُس علت کے چلے جانے سے وہ حکم بھی دوسرے حکم کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔اور یہ نسخ نہیں ہے۔نسخ تو کسی حکم کو ختم کردینا ہے یہاں تک کہ اُس کی تعمیل کرنا جائز نہ رہے۔(الإتقان في علوم القرآن للسیوطی، النَّوْعُ السَّابِعُ وَالْأرْبَعُونَ فِي نَاسِخِهٖ وَمَنْسُوخِهٖ )