فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 180
من سائر المسلمین۔{ FR 5427 } چودہویں آیت۔اِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ الآیة منسوخة بالآیة بعدہا۔{ FR 5428 } میں کہتا ہوں ان میں کوئی تعارض نہیں اوّل تو پہلی آیت شرطیہ جملہ ہے امر نہیں جو مجموعہ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ کا مخاطب ہے اس وقت اس کے صابر دس گنے دشمنوں کو کافی تھے اور جو لوگ اٰلآن کے وقت نکلے اس مجموعہ کے صابر دوچند کے مقابلہ میں غالب ہو سکتے تھے۔اگر یہ پچھلے وہی پہلے ہوں تو بھی مختلف اوقات میں انسانی حالت کا تبدل کوئی تعجب انگیز نہیں۔الآن اور عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعفًا صاف تفرقہ کی دلیل ہے۔پندرہویں آیت۔اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا الخ۔مَنْسُوْخَةٌ بِآیةِ الْعُذْرِ و ھو قولہ لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ و قولہ لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآءِ۔{ FR 5429 } فوز الکبیر میں کہا ہے۔خِفَافًا کے معنے ہیں۔کہ نہایت تھوڑے جہاد کے سامان (جیسے ایک سواری ایک نوکر اور معمولی زادِراہ سے بھی لڑائی کرو۔اور ثِقَالًا کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے نوکر اور سواریاں اور زادِراہ تمہارے پاس ہو۔سولہویں آیت۔اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً۔مَنْسُوْخَةٌ بِقَوْلِہٖ اَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ۔{ FR 5430 } فوز الکبیر میں ہے امام احمد ظاہر آیت پر حکم کرتے تھے اور امام احمد کے سوا اور لوگوں نے کہا کہ کبیرہ کا مرتکب زانیہ ہی کا کفو ہے یا یہ کہ زانیہ کا نکاح پسند کرنا اچھی بات نہیں اور آیت شریفہ میں حُرِّمَ کا اشارہ زنا اور شرک کی طرف ہے پس نسخ نہ ہوئی۔یا فَانْکِحُوا لْاَیَامٰی عام ہے اور عام خاص کا ناسخ نہیں ہوتا۔{ FN 5427 } اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ سے مراد ہے کہ تمہارے رشتہ داروں کے علاوہ لوگوں میں سے ہوں اور وہ تمام مسلمانوں میں سے ہوسکتے ہیں۔{ FN 5428 } آیت کریمہ اِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ اپنے بعد کی آیت سے منسوخ ہے۔{ FN 5429 } آیت کریمہ اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالًا معذوروں والی آیت سے منسوخ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے کہ لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ اور یہ قول بھی کہ لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآءِ۔{ FN 5430 } (اللہ تعالیٰ کا قول) اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً اللہ کے قول أَنْكِحُوا الْأَ يَامٰى مِنْكُمْ سے منسوخ ہے۔