فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 179 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 179

آٹھویں آیت۔وَ الَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِيْبَهُمْ منسوخة بقولہ تعالیٰ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فوز الکبیر میں ہے۔آیت کا ظاہر یہ ہے کہ میراث وارثوں کے لئے ہے اور احسان و سلوک مَوْلَی الْمَوَالَاةِ کے واسطے نسخ کوئی نہیں۔نویں آیت۔وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ۔آہ یہ آیت منسوخ ہے اور کہا گیا منسوخ نہیں لوگوں نے سستی کی اس پر عمل کرنے میں۔ابن عباس نے کہا یہ اِسْتِحْبَابِیْ حکم ہے۔سچ ہے بھلا اس کا نسخ کرنے والا کون ہے۔دسویںآیت۔وَ الّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ کہا گیا منسوخ ہے۔آیت سورہ نور سے۔فوزالکبیر میں ہے۔یہ بالکل منسوخ نہیں۔بلکہ وَاللَّاتِیْ آہ میں حکم ایک غایت کے انتظار کاہے سورہ نور میں اس غایت کا بیان ہوا اور رسول اللہ صلعم نے فرمایا۔یہ وہ سبیل ہے جس کا وعدہ دیا تھا پس نسخ نہ ہوئی۔گیارہویں آیت۔وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ اس مہینے میں اباحت قتال کے ساتھ منسوخ ہے۔فوز الکبیر میں ہے۔قرآن اور سنت ثابتہ میں اس کا نسخ موجود نہیں۔بارہویں آیت۔فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ۔آہ منسوخ ہے وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا اَ نْزَلَ اللّٰهُ کے ساتھ۔فوز الکبیر میں ہے کہ اس کے معنی ہیں اگر تو حکم کرے اہل کتاب کے مقدمات میں تو مَااَ نْزَلَ اللہُ پر حکم کر اور ان کی خواہشوں پر نہ جا۔حاصل یہ ہو اکہ یا تو ہم اہل ذمہ کو چھوڑ دیں وہ اپنے مقدمات اپنے افسروں کے پاس لے جاویں اور وہ اپنی شریعت کے موافق فیصلہ کریں۔اگر ہمارے پاس آویں تو حسبِ شریعت خود فیصلہ کر دیں۔تیرہویں آیت۔اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ منسوخ ہے وَ اَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ کے ساتھ۔فوز الکبیر میں ہے کہ امام احمد نے آیت کے ظاہر پر حکم دیا ہے اور اس آیت کے معنے اور لوگوں نے یہ کئے ہیں اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ ای من غیر اقاربکم فیکونون