فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 169
وغیرھما من الثقات المشھورین الذین اتفق اھل المشرق و المغرب علی صحة ما اورد وا فی کتبھم من امور النبی صلعم و اصحابہ رضی اللہ عنھم ثم بعد النقل ینظر الی الذی تمتدہ بھدیھم و اقتفٰی اثرھم و اھتدی بسیرھم فی اللاصول و الفروع فیحکم بانہ من الذین ھمھم وھذا ھو الفارق بین الحق و الباطل و الممیّز بین من ھو علی صراط مستقیم و بین من ھو علی السّبیل الذی علی یمینہٖ و شمالہٖ۔اگر کہے کہ تجھے کیونکر معلوم ہوا کہ تو سید ھے راہ پر ہے حالانکہ سب فرقوں کے لوگ یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم سیدھے راہ پر ہیں۔میں کہتا ہوں یہ صرف دعویٰ اور وہمی بات نہیں اور نہ ظنی بات ہے بلکہ یہ ہماری راستی حدیث کے بڑے ماہروں اور عالموں سے ثابت ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صحیح حدیثوں کو جمع کیا اور رسول اللہ ؐ کے امور اور ان کی باتیں اور ان کے افعال اور حرکات اور سکنات اور مہاجرین اور انصار صحابہ اور ان کی عمدہ باتوں کے تابعین کے اقوال اکٹھے کئے جیسے امام بخاری اور مسلم اور ان کے سوا اور مشہور ثقہ لوگ جن کی نسبت مشرق اور مغرب کے لوگوں نے اتفاق کیا کہ جو کچھ یہ لوگ اپنی کتابوں میں رسول اللہ صلعم اور آپ کے صحابہ سے لائے صحیح ہے۔اب ان نقول کے بعد دیکھا جائے کہ کس نے ان کی ہدایت کو مضبوط پکڑا اور کون ان کے پیچھے ہو لیا اور ان کے سیر سے ہدایت یاب ہوا۔اصول میں اور فروع میں جو ان کے مطابق ہے وہی ان میں سے ہے۔یہی بات حق وباطل کا تفرقہ ہے اور یہی سیدھے اور ٹیڑھے راہ کے ممیز ہے۔خاتمہ پر عموماً کل ناظرین اور سامعین اور خصوصاً شہر کے امراءاور حکما سے عرض ہے کہ مولوی عبد الحی حنفی کا انصاف اور علی قاری رحمة اللہ کا دینی جوش اور طحطاوی کی مدح سرائی اور حضرت شاہ جیلان علیہ الرحمة و الغفران کے علامات کو دیکھیں اور سوچیں کہ اہل حدیث کس درجہ کے لوگ ہیں باقی اقوال اوپر گذر چکے ہیں۔حضرت پیر کافرمان یہ ہے۔و اعلم ان لاہل البدع علامات یعرفون بھا فعلامتہ اہل البدعة الوقیعة فی اہل الاثر۔الی ان قال کل ذالک عصبة و غیاظ لاہل السنة ولا اسم لھم الا اسم واحد و ھو اصحاب الحدیث