فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 165 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 165

تطھرت فلایکشفنی احدوفقبضت مکانھا۔ضعیف۔نہایت برُا اور شنیع خلاف مختصر اور اس کی شرح ابوالمکارم کا ہے جو کہا۔مختصر کے لئے سنت ہے مونہہ کر دینا قبلہ کو قبر میں اور پسند کیا گیا چت لٹا دینا اگرچہ پہلی بات سنت ہے کیونکہ اس میں روح آسانی سے نکلتی ہے۔کروٹ پر لٹانا اور قبلہ کو مونہہ کر دینا ایسی نص میں آچکا ہے جس میں احتمال نہیں اور پھر بے پرواہی سے خلاف کیا اور بایں مخالفت کہہ دیا کہ ہم حدیث سے بے خبر نہیں اگر نہ کہتے تو جہالت کے معذور کہے جاتے بلکہ جا ن کر عمداً مخالف ہوئے اور باایں عمد تصریح بھی کر دی کہ یہ احتمال نہ کرو کہ استلفاء پسند کرنے والوں سے فتویٰ خلاف اپنے نبی کے کسی ناسخ اور راجح حدیث کے باعث ہے۔نہیں نہیں بلکہ ترجیح صرف ایسی بات سے ہے جو صرف اطباّ سے نقل ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جس میں روحانی آرام ہے۔فتح القدیر میں ہے ہو سکتا ہے کہ کہا جاوے یہ طبیّ اور ظنیّ بات ہے کیونکہ استلقاء میں روحانی آرام ماننا ایک طبعی امر ہے اور علم طبعی کے قواعد اس پر حکم کرتے ہیں باایں تصریح ان لوگوں نے صاف کہہ دیا کہ اس صرف طبیّ ڈھکوسلا میں جو صرف ایک ُسست وہم پر مبنی ہے۔دینی کوئی مصلحت نہیں صرف دنیوی فائدہ ہےمزاجی آسائش ہے روحانی آرام نہیں اور شرع میں ثابت ہو چکا ہے کہ اکثر مزاجی تکلیف روحانی عالم (دارآخرة) میں روحانی راحت کا موجب ہے اسی لئے۔سکرات کی شدت سیّد رُسل صلعم کا حال ہے یہی سبب ہے کہ یہ تکلیف منصب قطب میں ضرور بات سے شمار ہوئی اور یہ تو معلوم ہی ہے کہ حقیقی آرام اس میں ہے جس میں شرع وارد ہوئی اگرچہ ظاہر میں تکلیف ہی ہو۔اس بات سے صاف واضح ہے کہ جس نے استلقا پسند کیا اور آرام کو علّت بنا کر استلقا کا فتویٰ دیا جب آرام کو علّت مانا تو اسے ضرور ہوا علّت کو مطرد مانے اور جس نے مطرد مانا اسے ضرور پڑا کہ ان تمام سنتوں کو چھوڑ دے جن میں مزاجی تکلیف ہے کیونکہ آرام کا خیال سنت کے ترک میں مرتے وقت جبکہ مزاج کے اصل ہی سے گم ہو جانے کا یقین ہے واجب کرتا ہے کہ زندگی کی حالت میں جہاں مزاج کی حفاظت کو شرع نے بھی مہمل نہیں رکھا ضرور بہتر ہو گا جب یہ بات ہے تو ایسے لوگوں کو صدہا سنتوں کا ترک کر دینا ضرور ہوا