فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 12 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 12

اور یہاں قراءت سے تدبر مراد لینا بھی صحیح نہیں۔کیونکہ تدبر کو لغت اور عرف میں قراءت نہیں کہتے۔فقہا نے بھی فرق رکھا ہے۔دیکھو جنبی کے حق میں تدبر منع نہیں اور قراءت کو منع کیا ہے۔باایں ہمہ قراءت کے حقیقی معنے چھوڑنے اور مجازی لینے پر کیا مجبوری ہے۔حقیقی معنے یہاں ممکن ہیں اور امکان حقیقت میں مجاز پر عمل کرنا ساقط ہے۔(دیکھو اپنا اصول) (۲) دوسری دلیل مقتدی کو فاتحہ پڑھنے کی۔رَوَى الْبُخَارِيُّ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهٖ فَلَمَّا قَضٰى صَلَاتَهٗ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهٖ فَقَالَ أَتَقْرَءُوْنَ فِيْ صَلَاتِكُمْ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ؟ فَسَكَتُوْا فَقَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ قَائِلٌ أَوْ قَائِلُوْنَ إِنَّا لَنَفْعَلُ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوْا وَلْيَقْرَأْ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِيْ نَفْسِهٖ۔{ FR 4492 }؂ (۳) و عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ قَالَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَقَالَ إِنِّيْ لَأَرَاكُمْ تَقْرَءُوْنَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ؟ قَالَ قُلْنَا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوْا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَّمْ يَقْرَأْ بِهَا۔{ FR 4493 }؂ (۴) عَنْ نَافِــــعٍ۔۔۔۔۔قَالَ۔۔۔۔۔۔أَبْطَأَ عُبَادَةُ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَأَقَامَ أَبُونُعَيْمٍ { FN 4492 } ؂ امام بخاری ؒ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی۔جب آپؐ نے نماز پڑھ لی تو ان کی طرف چہرہ کیا اور فرمایا: کیا تم اپنی نماز میں قراءت کرتے ہو، جبکہ امام (بھی) قراءت کر رہا ہوتا ہے۔وہ خاموش رہے۔آپؐ نے تین بار ایسا ہی فرمایا تو کسی کہنے والے نے یا بعض کہنے والوں نے کہا: ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔آپؐ نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو۔اور تم میں سے ہر ایک کو سورۂ فاتحہ اپنے دل میں پڑھنی چاہیئے۔(القراءة خلف الإمام للبخاري, باب لا يجهر خلف الإمام بالقراءة, صفحه۶۱) { FN 4493 } ؂ حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے۔انہوں نےکہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔انہوں نے کہا: آپؐ پر قراءت کرنا مشکل ہوگیا۔پھر آپؐ نے فرمایا: میں دیکھتا ہوں کہ تم اپنے امام کے پیچھے پیچھے پڑھتے ہو۔حضرت عبادہ بن صامتؓ نے کہا: ہم نے عرض کیا: جی ہاں یارسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو، سوائے اُمّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) کے۔کیونکہ جس نے اسے نہ پڑھا اس کی نماز ہی نہیں ہے۔(القراءۃ خلف الإمام، باب لا يجهر خلف الإمام بالقراءة, صفحه۶۱)