فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 161
فائدہ جنازہ کی نماز میں تکبیر اُولیٰ کے بعد فاتحہ کا پڑھنا سنت صحیحہ سے ثابت ہے۔اخرج البخاری فی صحیحه عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ (رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا) عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ۔قَالَ: لِيَعْلَمُوْا أَنَّـهَا سُنَّةٌ۔وقول الصحابی انها سنة رفع الحدیث فلاینافی وجوب الفاتحة۔وحدیث ابن عباس اخرج الترمذی وقال حسن صحیح۔{ FR 4785 } واخرج البخاری وغیرہ کما مرّ غیرمرة۔لَاصَلٰوة اِلَّابفاتحة الکتاب۔{ FR 5336 } اور صلوٰة جنازہ بھی صلوٰة ہے۔افسوس ہمارے حنفی بھائی کہیں تو قرآن سے اس مسئلہ فاتحہ کا ایسا استدلال پکڑتے رہے کہ لَاصلوٰة کی حدیث کو چھوڑ دیا اور عذر کر دیا فَاقْرَؤُوْا مَاتَیَسَّرَ کے عموم کے خلاف ہے۔یہاں صلوٰة جنازہ میں سرے سے فاتحہ کیا مطلق قرآن ہی فرض نہ مانا۔ناظرین غور کریں فقہ کے ابتدائی متون میں کیدانی ہے۔جو ہندوپنجاب میں مروج ہے۔اس پر مُلاَّعلی قاؔری { FN 4785 } امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں طلحہ بن عبد اللہ بن عوف سے روایت بیان کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے ایک جنازہ کی نماز پڑھی تو انہوں نے سورۂ فاتحہ پڑھی، انہوں نے کہا: تاکہ لوگ جان لیں کہ یہ سنت ہے۔اور قولِ صحابی ہے کہ یہ سنت ہے، انہوں نے اس حدیث کو مرفوع بیان کیا۔پس فاتحہ کے واجب ہونے کا انکار نہیں ہوسکتا۔اور حضرت ابن عباسؓ کی حدیث ترمذی نے بھی بیان کی ہے اور انہوں نے کہا کہ یہ (روایت) حسن اور صحیح ہے۔{ FN 5336 } اور جیسا کہ متعدد بار گزر چکا ہے کہ امام بخاریؒ وغیرہ نے اس (روایت) کو بیان کیا ہے کہ نماز نہیں مگر سورۂ فاتحہ کے ساتھ ہی۔