فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 149
اور عبد الرحمٰن الاعرج کے مخالف عبد الرحمٰن بن اسحاق کا اثر ابوہریرہ سے اگر کوئی پیش کرنا چاہے تو اسے یہ بھی سن رکھنا چاہیے کہ امام الائمہ نے اس کی نسبت کہا ہے۔وَلَيْسَ هٰذَا مِمَّنْ يُعْتَدُّ عَلٰى حِفْظِهٖ إِذَا خَالَفَ مَنْ لَيْسَ بِدُونِهٖ وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ (بْنُ إِسْحَاقَ) مِمَّنْ يَحْتَمِلُ فِي بَعْضٍ۔وَقَالَ إِسْمَاعِيْلُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ: سَأَلْتُ أَهْلَ الْمَدِيْنَةِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، فَلَمْ يَحْمَدْ مَعَ أَنَّهٗ لَا يُعْرَفُ لَهٗ بِالْمَدِينَةِ تِلْمِيْذٌ إِلَّا أَنَّ مُوسَى الزَّمْعِيَّ رَوَى عَنْهُ أَشْيَاءَ فِيْ عِدَّةٍ مِنْهَا اضْطِرَابٌ۔{ FR 4772 } مدرک رکوع تارک قراءت کے عدم اعتدا و رکعت کے فتویٰ دینے والے پر اعتراض اور ان کا جواب پہلا سوال۔ابوہریرہ سے مروی ہےمَنْ أَدْرَكَ الرُّكُوْعَ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيُضِفْ إِلَيْهَا أُخْرٰى۔رواہ الدّارقطنی۔{ FR 4773 } ابن عمر سے ہےمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ أَوْ غَيْرِهَا۔۔۔الخ۔{ FR 5284 } ۱ جواب۔اس حدیث میں بشربن معاذ متروک ہے۔ایسا ہی سلیمان بن ابوداؤد اور ابن ماجہ کی روایت میں عمروبن حبیب متروک ہے۔عمدہ طُرق میں اوزاعی کی روایت تھی مگر اس میں ولید { FN 4772 } اور یہ (عبد الرحمٰن بن اسحاق) ایسا شخص نہیں کہ اس کے حافظہ پر اعتماد کیا جائے، جبکہ اس کی مخالفت کرنے والا اس سے کمزور نہیں ہے۔اور عبدالرحمٰن (بن اسحاق) بعض (روایات) میں قابل برداشت بھی ہے۔اور اسماعیل بن ابراہیم نے کہا: میں نے مدینہ والوں سے عبدالرحمٰن کے متعلق پوچھا تو اس کی صرف یہی تعریف کی گئی کہ مدینہ میں اس کا ایک ہی شاگرد معروف ہے یعنی موسیٰ زمعی نے اس سے متعدد ایسی چیزیں روایت کی ہیں جن میں اضطراب ہے۔{ FN 4773 } جس نے جمعہ کے دن دوسری رکعت کا رکوع پالیا تو اسے چاہیے کہ وہ اس کے ساتھ دوسری رکعت ملالے۔اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے۔(سنن الدار قطني، کتاب الجمعة، بَابٌ فِيمَنْ يُدْرِكُ مِنَ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً أَوْ لَمْ يُدْرِكْهَا) { FN 5284 } جس نے نمازِ جمعہ یا اس کے علاوہ (کسی نماز) کی ایک رکعت پالی (تو اس نے نماز پالی) (سنن ابن ماجه، کتاب إقامة الصلاة، بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً)