فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 148 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 148

قَالَ بِسَنَدِهٖ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ‘ قَالَ: «إِذَا أَدْرَكْتَ الْقَوْمَ رُكُوعًا لَمْ تَعْتَدَّ بِتِلْكَ الرَّكْعَةِ۔{ FR 5279 }؂ وَقَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ (رَضِيَ اللهُ عَنْهُ) لَا يَرْكَعْ أَحَدُكُمْ حَتّٰى يَقْرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ۔قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُوْلُ ذٰلِكَ، { FR 5280 }؂ وَقَالَ الْبُخَارِيُّ أَنَّهٗ ذَهَبَ إِلٰى ذٰلِكَ كُلُّ مَنْ ذَهَبَ إلَى وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ { FR 5282 }؂ اور ظاہر ہےکہ وجوب قراء ة خلف الامام جمہور کا مذہب ہے پس عدم ِاِعتاد اس رکعت کا جس میں کوئی نمازی بدوں قراءت امام سے رکوع میں ملا جمہور صحابہ کا مذہب ہو گا۔اور عراؔقی اور شبکیؔ نے اور حسب تصریح ابن سیّدالناس ابوبکر ضبعی اور بعض اہل ظاہر اور ابن خزیمہ نے تو اس مسئلہ میں صاف فتویٰ دیا کہ بدوں قراءت مدرک رکوع کی نماز نہیں ہوتی۔(قَالَ الْبُخَارِيُّ:) فَإِنِ احْتَجَّ فَقَالَ إِذَا أَدْرَكَ الرُّكُوعَ جَازَتْ فَكَمَا أَجْزَأَتْهُ فِي الرَّكْعَةِ كَذٰلِكَ تُجْزِيهِ فِي الرَّكَعَاتِ قِيلَ لَهُ إِنَّمَا أَجَازَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَابْنُ عُمَرَ وَالَّذِينَ لَمْ يَرَوُا الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ فَأَمَّا مَنْ رَأَى الْقِرَاءَةَ، فَقَدْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَا يُجْزِيْهِ حَتّٰى يُدْرِكَ الْإِمَامَ قَائِمًا۔{ FR 5281 }؂ { FN 5279 }؂ انہوں نے اپنی سند سے عبد الرحمٰن اَعْــرَج سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا: جب تم لوگوں کو رکوع میں پاؤ تو اُس رکعت کو شمار نہ کرو۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ مَنْ قَرَأَ فِي سَكَتَاتِ الْإِمَامِ إِذَا كَبَّرَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ) { FN 5280 }؂ انہوں نے کہا کہ حضرت ابوسعید (خدری) رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے کوئی رکوع نہ کرے یہاں تک کہ وہ اُمّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) نہ پڑھ لے۔امام بخاریؒ نے کہا: اور حضرت عائشہؓ بھی ایسے ہی کہا کرتی تھیں۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الْإِمَامِ) { FN 5282 }؂ اور امام بخاریؒ نے کہا: ہر کوئی جو امام کے پیچھے قراءت کے واجب ہونے کی طرف گیا ہے اُس کا یہی مذہب ہے۔{ FN 5281 } ؂ (امام بخاریؒ نے کہا:) اگر کوئی دلیل دے اور کہے کہ جب اُس نے رکوع پالیا تو (اس کی رکعت) ادا ہوگئی، پس جس طرح ایک رکعت میں (قراءت نہ کرنا) اس کے لیے جائز ہے، اسی طرح (باقی) رکعات میں بھی اس کے لیے جائز ہے۔تو اسے کہا جائے گا کہ صرف حضرت زید بن ثابتؓ، (حضرت عبد اللہ) بن عمرؓ اور اُن لوگوں نے ہی اسے جائز قرار دیا ہے جو امام کے پیچھے قراءت کرنے کی رائے نہیں رکھتے۔اور وہ لوگ جنہوں نے قراءت کرنے کی رائے دی ہے (وہ تو اس کے قائل نہیں۔) اور حضرت ابوہریرہؓ نے کہا ہے کہ اُس سے (رکعت) ادا نہیں ہوتی جب تک کہ وہ امام کو قیام کی حالت میں (یعنی رکوع سے قبل) نہ پالے۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ)