فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 147 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 147

اَنْ لَّآاِلٰہَ میں اٹھائی اور اِلَّا اللہ میں رکھ دی۔جیسے بدوں دلیل بعضے لوگ کرتے ہیں۔یا رباعی نماز میں چوتھی رکعت پر قعدہ بھول گیا اور کھڑا ہو گیا اور پانچویں رکعت پڑھ کر سجدہ سہو کر لیا۔یا کسی نمازی نے صبح کی ایک رکعت جس میں اس نے آمین بالجہر کہی تھی پڑھی پھر سورج نکل آیا اور اس شخص نے طلوع کی تحرِّی بھی نہیں کی تھی جو لَایَتَحَرَّیٰ{ FR 5274 }؂ کا مخالف سمجھا جاتا اور نماز کو عین طلوع کے وقت شروع بھی نہیں کیادیکھو ان سب صورتوں میں احادیث صحیحہ کے لحاظ سے نماز کامل ہو چکی اور آپ کے یہاں کامل کیا بعض کے قول کو دیکھیں تو جائز بھی نہیں ہوئی۔ہر رکعت میں قرآن بلکہ فاتحہ الکتاب پڑھنے کے دلائل احادیث مرفوعہ سے تمام ہوئے۔وَالْـحَمْدُ لِلہِ تَعَالیٰ اس اتمام پر اثبات مسئلہ میں ایک اشارہ بھی سن لیجیے امام بخاری نے قراءت میں ابوسعید سے روایت کیا کہ جناب رسول اللہ پہلی رکعت کو لمبا کرتے تھے اور بعض نے کہا یہ اس لئے تھا کہ لوگ پہلی رکعت میں مل جا وین وَ لَمْ یَقُلْ فِی الرُّکُوْعِ وَ لَیْسَ فِی الْاِنْتِظَارِ فِی الرُّکُوْعِ سُنَّةٌ۔{ FR 5275 }؂جب فاتحہ کا پڑھنا ہر رکعت میں فرض ہوا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ رکوع کا وقت قراءت کے بعد ہے اور یہ بھی کہ ماَفاَت کی قضا ضرور ہے اور بالکل ظاہر ہے کہ جس نے قبل القراءت رکوع کیا اس نے قراءت کا فرض ادا نہیں کیا اور اس کا رکوع بعد القراءت نہیں اور صرف سجدہ کے ادراک سے رکعت کا ادراک بالاتفاق مسلّم نہیں پس ایسے مدرک رکوع کی رکعت ہرگز ادا نہ ہوئی اور ایسے شخص کو حسب الحکم اِقْضُوْا مَا فَاتَکُمْ { FR 5276 }؂ اس رکعت کا پھر پڑھنا پڑا۔حنفیہ پر اتمام حجت کے لئے چند آثار اس مسئلہ کے باب میں بیان کرتا ہوں کیونکہ صحابی کا قول ان کے یہاں حجت مسلّمہ ہے اگرچہ امام بخاری نے فرمایا جب حکم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہو چکا تو پھر لوگوں کے مذہب بیان کرنے کی ہم کو کچھ حاجت نہیں۔{ FN 5274 }؂ وہ (سورج نکلنے یا غروب ہونے کی) جستجو میں نہ رہے۔{ FN 5275 }؂ اور انہوں نے رکوع کے متعلق ایسا نہیں کہا اور نہ ہی رکوع میں انتظار کرنا سنت ہے۔{ FN 5276 }؂ جورکعت تم سے رہ جائے اُسے پورا کرلو۔