فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 143
اور تین اور پانچ اور سات اور نو رکعت سب درست ہیں۔اور یہ اختلاف اختلاف انواع ہے۔نہ تضاد ہے اور نہ اضطراب۔جیسے لوگوں نے گمان کیا ہے اختلاف انواع کی مثالیں۔تشہد کے الفاظ میں اختلاف اَ بُوْمَـحْذُوْرَہ اور بلال کی اذان واقامت میں اختلاف یا نماز میں قراءت کا کبھی جناب رسول اللہؐ نے کوئی سورہ پڑھی اور کبھی کوئی سورة۔ادائے صلوٰة خوف میں اختلاف تکبیر تحریمہ کے پیچھے اور قراءت سے پہلے کبھی سبحانک اللہ کبھی اللہ اکبر کبیرا کبھی اللّٰھم باعد بینی و بین خطائی۔اذکار اور ادعیہ میں اختلاف۔حج میں مَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ وَ مَنْ تَأَخَّرَ۔۔۔۔۔۔۔دوسرا اعتراض۔حنفیہ کا امام شافعی پر لاصلوٰة میں ایک رکعت کو نمازکہنے کے باعث تقریر اعتراض۔لاصلوٰة میں نماز سے نماز کامل مراد ہے اور وہ دو رکعت سے کم نہیں ہوتی (ثبوت)۔اگر کوئی حلف کرے لایصلّی صلوٰة پھر ایک رکعت نماز پڑھ لے وہ حانث نہیں ہوتا اگر دو رکعت پڑھے تو حانث ہو جاتا ہے اگر صرف لَایُصَلِّیْ کا لفظ کہے تو ایک رکعت کے پڑھنے سے بھی حانث ہو جاتا ہے۔جواب ۱۔پس حسب اقرار آپ کے ایک رکعت کا نماز ہونا بھی ثابت ہوا۔کیونکہ لایصلّی کا مشتق منہ صلوٰة ہے اگر لایصلّی کہنے والے کی ایک رکعت پڑھنے سے نماز نہ ہوتی وہ حانث کیوں ہوتا۔جواب۲۔نکرہ نفی کے نیچے مفید عموم ہے۔اور تخصیص کمال بطور آپ کے نسخ عموم ہے اور نسخ شریعت آپ کا عہدہ نہیں۔جواب۳۔ایمان کا مدار آپ کے یہاں عرف پر ہے اور حنفیوں کی عرف ایک رکعت کو کامل نماز کہنے کے خلاف ہے۔پس ان کے نزدیک لایصلی صلٰوة میں حالف کا ایک رکعت کے پڑھنے سے حانث نہ ہونا اس امر کا مستلزم نہیں کہ فی الواقع بھی ایک رکعت کی نماز کامل نہیں۔جواب۴۔ایسے حالف کا حانث نہ ہونا ممنوع ہے۔جواب۵۔لایصلی صلوٰة میں صلوٰة کا لفظ مکررہے ایک دفعہ تو یصلّی کے ضمن میں اور