فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 141 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 141

بلکہ ابوہریرہ نے مرفوعاً روایت کیا ہے۔لَا تُوتِرُوا بِثَلَاثٍ وَ أَوْتِرُوا بِخَمْسٍ أَوْ سَبْعٍ وَلَا تَشَبَّهُوْا بِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ۔{ FR 5249 }؂ ترجمہ۔تین رکعت وتر مت پڑھو۔وتر کرو پانچ یا سات۔مت مشابہ کرو ساتھ نماز مغرب کے۔دارقطنی نے کہا۔اس کے سب راوی ثقہ ہیں۔حاکم نے تصحیح کی اور ابن حبان نے ذکر کیا۔اگر کسی نے موقوف کہا ہے تو موقوف آپ کے یہاں حجت ہے۔عراقی نے کہا۔عائشہ سے صحیح ہوا۔قَالَتْ وَاِنِّیْ لَاَکْرَہُ اَنْ یَّکُوْنَ ثَلَاثًا بُتَیْرَآءُ۔{ FR 5251 }؂ اور سلیمان بن یسار سے تین رکعت وتر کا مسئلہ پوچھا گیا۔فکرہ الثّلاث{ FR 5252 }؂ اور کہا۔لایشبہ التطوّع بالفریضة اوتر برکعة۔انتہیٰ۔{ FR 5253 }؂ آپ لوگوں نے دیکھا ایک رکعت کی نماز شرع میں کیسے ثابت ہے بلکہ بقول ابن عباس فرض کی ایک رکعت بھی ثابت ہے۔گو اہل حدیث کے نزدیک صلوٰة خوف کی نماز ایک رکعت نہیں۔پس عینی کا قول کہ ایک رکعت شرعی نماز نہیں ہرگز درست نہ ہوا۔پس شافعی پر انکار صحیح نہ ہوگا۔فائدہ وتروں میں اصل بات یہ ہے کہ وتر علی سبیل اختلاف الانواع کئی طرح ثابت ہیں۔ایک ر۱کعت جیسے گذرا اور تین ر۲کعت ایک سلام سے کما ذکرنا عن اُبَـیّ مَرْفُوْعًا عند النسائی { FR 5254 }؂ اِلَّا ان میں بھی سَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ اور سُورہ کافرون اور سُورہ اخلاص کی تخصیص ہے۔خلافًا للحنفیة اور تین ر۳کعت جن میں ایک ہی تشہد اخیر ہو کما ھو مذہب جماعة من { FN 5249 } ؂ (شرح معاني الآثار، کتاب الصلاة، باب الوتر) { FN 5251 } ؂ حضرت عائشہ ؓ نے کہا: میں ناپسند کرتی ہوں کہ تین رکعتیں اکیلی ہوں۔{ FN 5252 } ؂ انہوں نے تین رکعتیں (پڑھنا) ناپسند کیا۔{ FN 5253 }؂ نوافل کو فرض کے مشابہہ نہ بناؤ، ایک رکعت سے وتر کرلو۔{ FN 5254 }؂ جیسا کہ ہم نے نسائی کی حضرت اُبَيّ (بن کعبؓ) سے مرفوع روایت ذکر کی ہے۔