فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 136
لینے کا مامور ہے اور اگر اسے بتادیں کہ قِرَاءَ ة سے قرآن کا پڑھنا مراد ہے اور َصلوٰة سے شرعی صلوٰة مراد ہے نہ ُلغوی تو پھر یہی مختار ہو گا قرآن کو نماز کے قیام میں پڑھے یا رکوع یا سجدہ یا قعدہ میں اور بلحاظ قاعدہ اَلْاَمْرُ لَایَقْتَضِی التَّکْــرَار۔{ FR 5235 } ایک ہی دفعہ پڑھنے پر اکتفا کرے۔قال العینی: روينا عن علي أنه قال: اقرأ في الأوليين وسبح في الأخريين وكفى به قدوة۔انتہٰی۔{ FR 5236 } وَقَالَ فِي الْهَدَايَةِ: وَهُوَ الْمَأْثُوْرُ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ۔{ FR 5237 } أَقُوْلُ رَوَيْنَا فِيْ جُزْءِ الْقِرَاءَةِ: حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ قَالَ حَدَّثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ وقَالَ لَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ ابْنِ أَبِيْ رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِيْ طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهٗ كَانَ يَأْمُرُ وَيُحِبُّ أَنْ يُّقْرَأَ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُوْرَةٍ سُوْرَةٍ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ۔{ FR 5238 } فَاقْرَءُوْا خلف الإمام وکفی به قدوة ثم اعلم ان اثرک المرویّ منقطع صرّح به ابن الهمام وما ثبت اَثر عائشة هذا { FN 5235 } اَمر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا۔{ FN 5236 } عینی نے کہا: حضرت علیؓ سے ہم نے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: پہلی دو (رکعتوں) میں قراءت کرو اور دوسری دو میں تسبیح کرو، اور اقتداء کرنے کے لحاظ سے یہ کافی ہے۔عینی کی بات ختم ہوئی۔(البناية شرح الهداية، کتاب الصلاة، باب النوافل، فصل فی القراءة، حکم القراءة فی الفرض) { FN 5237 } اور ہدایہ میں کہا ہے کہ یہ حضرت علی، حضرت ابن مسعود اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔(الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب الصلاة، باب النوافل، فصل فی القراءة) { FN 5238 } میں کہتا ہوں کہ جزء القراءۃ سے ہم نے روایت نقل کی کہ محمود (بن اسحاق) نے ہم سے بیان کیا انہوں نے کہا: امام بخاری نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: اور آدم نے ہم سے کہا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ سفیان بن حسین نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے زُہری سے سنا۔انہوں نے ابن ابی رافع سے روایت کی۔انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ حکم دیتے تھے اور پسند فرماتے تھے کہ ظہر اور عصر (کی نمازوں) میں امام کے پیچھے (پہلی دو رکعات میں) سورۂ فاتحہ اور ایک ایک سورۃ پڑھی جائے اور دوسری دو (رکعات) میں (صرف) سورہ فاتحہ پڑھی جائے۔(القراءة خلف الإمام، وجوب القراءة للإمام والمأموم)