فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 128 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 128

تَہْتَدُوْا{ FR 5204 }؂ سچ ہے۔ہدایت یاب وہی ہیں جنہوں نے اطاعت رسول اللہ صلعم کی اختیار کی اور رسول اللہ صلعم اِقْرَأْ ثُمَّ ارْکَعْ { FR 5205 }؂ فرماتے ہیں پس مطیع وہی ہوا جس نے قراءت پڑھی پھر رکوع کیا رکوع قبل القراءت اور رکوع بعد القیام بدوں القراءت میں اطاعت نہیں قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللهُ۔{ FR 5206 }؂ پس ہم لوگ قراءت کو رکوع سے پہلے پڑھتے ہیں۔نبدأ بمابدأ اللہ پر عمل کرتے ہیں اگر قراء ت فوت ہو جائےتو اس کی قضا کرتے ہیں(اور رسول کا فرمانا اللہ کافرمانا یقین کرتے ہیں)۔پانچویں دلیل۔ہر رکعت میں فاتحہ پڑھنے کی فرضیت پر بخاری کی روایت سے قتادہ کی حدیث میں آیا ہے۔اِنَّ النَّبِیَّ صَلْعَمْ کَا نَ یَقْرَأُ فِیْ کُلِّ رَکْعَةٍ بِفَاتِـحَةِ الْکِتَابِ۔ترجمہ رسول اللہ صلعم ہر رکعت میں الحمد پڑھتے تھے۔بخاری ہی کی روایت سے ثابت ہوا صَلُّوْاکَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ نماز پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھا۔دونوں حدیثوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ ہر رکعت میں قراء ت فاتحہ فرض ہے اور اس کے شواہد سے ہے۔ابوسعید کی حدیث۔أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِيْ كُلِّ رَكْعَةٍ رَوَاهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي التَّحْقِيقِ (إلٰى أَنْ) قَالَ: وَمَا عَرَفْتُ هٰذَا الْحَدِيْثَ وَعَزَاهَا غَيْرُهٗ بِرِوَايَةِ إسْمَاعِيْلَ۔قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْهَادِيْ فِي التَّنْقِيحِ: رَوَاهُ إسْمَاعِيْلُ هٰذَا وَهُوَ صَاحِبُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ، وَفِيْ سُنَنِ ابْنِ مَاجَهْ مِنْ حَدِيْثِ أَبِي سَعِيْدٍ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَّمْ يَقْرَأْ فِيْ كُلِّ رَكْعَةٍ بِالْحَمْدِ وَسُورَةٍ فِي فَرِيضَةٍ أَوْ غَيْرِهَا۔{ FR 4709 }؂ یہ صرف شواہد { FN 5204 }؂ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر تم اس کی اطاعت کرو تو ہدایت پاجاؤگے۔{ FN 5205 }؂ قراءت کرو پھر رکوع کرو۔{ FN 5206 }؂ ہم اس سے شروع کرتے ہیں جس سے اللہ نے شروع کیا ہے۔{ FN 4709 } ؂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھا کریں۔ابن جوزی نے ’’التحقیق فی احادیث الخلاف‘‘ میں اسے روایت کیا۔(اس بات تک کہ) انہوں نے کہا: اور میں اس حدیث کو نہیں جانتا، اور ان کے علاوہ کسی اَور نے اسے اسماعیل (بن سعید) کی روایت کی طرف منسوب کیا ہے۔ابن عبد الہادی نے التنقیح میں کہا ہے کہ اسے اسماعیل نے روایت کیا جو امام احمد (بن حنبل) کے ساتھی تھے۔اور سنن ابن ماجہ میں حضرت ابوسعیدؓ کی ایک حدیث ہے کہ اُس کی نماز نہیں جس نے فرض یا اس کے علاوہ (سنت ونوافل) کی ہر رکعت میں الحمد للہ اور کوئی اور سورۃ نہ پڑھی۔