فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 126 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 126

ایمان ہوئی۔(الحمد للہ اللّھم زدنی علمًا و ایمانًا آمین) اس میں اس مسئلہ کو دیکھ کر وہ خوشی حاصل ہوئی جس کے بیان کو کاغذ میں وسعت نہیں۔نواب بھوپال۔جن کی کوشش سے یہ کتاب چھپی اور قاضی شوکان کے حق میں جزاہما اللہ احسن الجزاء کہتا ہوں۔پھر کئی روز کے بعد امام الکلام مولوی عبد الحی صاحب دیکھ کر معلوم ہوگیا کہ فتویٰ عدم اعتداد رکعت کا خلاف قوی نہیں بلکہ اس کا خلاف کچھ بھی نہیں۔وَاللہُ اَعْلَمُ وَ عِلْمُہٗ اَتَمَّ۔امام الکلام کے بعض ان اعتراضوں کا جواب فقیر عرض کرے گا جو بظاہر مستحکم ہیں ومن اللہ التّوفیق۔دوسری دلیلہررکعت میں قراءت کی یہ ہے۔امام بخاری نے جزء القراءت میں فرمایا ہے۔عَنْ أَبِي السَّائِبِ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَجُلٌ والنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَلَمَّا قَضٰى صَلَاتَهٗ قَالَ ارْجِعْ فَصَلِّ (إلٰى أَنْ) قَالَ فَحَلَفَ لَهٗ كَيْفَ اجْتَهَدْتَ فَقَالَ لَهٗ اِبْدَأْ فَكَبِّرْ وَتَحْمَدُ اللهَ وَتَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ثُمَّ تَرْكَعُ حَتّٰى يَطْمَئِنَّ صُلْبُكَ۔{ FR 5197 }؂ و فی روایة عن البخاری: كَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ، (ثُمَّ كَبِّرْ) ثُمَّ ارْكَعْ۔{ FR 5200 }؂ وقال البخاري عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ { FN 5197 }؂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص حضرت ابوسائبؓ سے روایت ہے (انہوں نے کہا) کہ ایک آدمی نے نماز پڑھی اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم اسے دیکھ رہے تھے۔جب اس نے اپنی نماز ختم کی تو آپؐ نے فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو ، (اس بات تک کہ) پھر اس نے آپؐ سے قسم کھا کر پوچھا کہ آپؐ کیسی کوشش چاہتے ہیں؟ آپؐ نے اُس سے فرمایا: (نماز) شروع کرو تو اللہ اکبر کہو ، اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرو اور ام القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) پڑھو۔پھر رکوع کرو یہاں تک کہ تمہاری کمر پر اطمینان ہوجائے۔(القراءۃ خلف الإمام للبخاری، بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الْإِمَامِ) { FN 5200 }؂ اور امام بخاریؒ سے ایک روایت میں ہے کہ تکبیر کہو، پھر قرآن میں سے جو میسر ہو، پڑھو۔(پھر تکبیر کہو) پھر رکوع کرو۔(القراءۃ خلف الإمام للبخاری، بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الْإِمَامِ )