فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 116 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 116

۲جواب۔جس شخص کی فجر کی نماز قضا ہو جاوے اس کے حق میں اداء صلوٰة عِنْدَ الْـخُطْبَةِ حنفی جائز رکھتے ہیں۔جس دلیل سے یہ خلاف استماع یا تخصیص استماع مانی گئی۔ایسی ہی دلیل سے قراءت فاتحہ جائز ہے۔تیسری وجہ دو قرائتیں ایک حقیقی اور ایک حکمی جمع ہو گی۔اگر مقتدی امام کے پیچھے فاتحہ پڑھے گا۔جواب۔پھر کیا حرج۔کوئی جرح شرعی ثابت کر دیجیے۔چوتھی وجہ مقتدی مُنَازِعَة سے پڑھے گا یا عِنْدَ السَّکْتَاتَ مُنَازعہ ممنوع ہے اور عِنْدَ السَّکْتَاتَ پر یہ اعتراض ہے کہ امام پر سکتہ فرض نہیں۔پس اسے اختیار ہے سکتہ نہ کرے۔جواب۔مقتدی بدوں منازعت سِرًّا قراءت پڑھے جَہْرًا نہ پڑھے۔امام صاحب کا مناظرہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ دلیل محکم میں یہ مناظرہ لکھا ہے اِلَّا افسوس رسالہ اس وقت پاس نہیں اور جب دیکھا تھا اس وقت راقم نہایت صغیرالسن تھا۔حافظہ میں جس قدر ہے اسے لکھتا ہوں۔پانچ سو عالم امام صاحب کی خدمت میں ترکِ فاتحہ کے مخالف جمع ہوئے ان کو جناب نے فرمایا۔تم سب سے ایک آدمی بات کرے ممکن نہیں اپنی جماعت میں سے منتخب کرو۔آخر ایک کو منتخب کیا تب جناب امام نے فرمایا۔کیا اس کا کہنا تمہارا کہنا ہو گا اور اس کا قول تمہارا قول۔سب نے جواب دیا۔ہاں امام نے فرمایا۔یہی تمہارا جواب ہے۔جب ایک شخص کو بہت آدمیوں نے امام بنایا تو اس کا پڑھنا مقتدیوں کا پڑھنا ہو گا۔اس پر سب علماء ساکت ہو گئی۔جواب۔اوّلؔ نقل صحیح اور ایسے قیاس مع الفارق کا معارضہ کیا۔دوئمؔ۔معلوم ہوا اُس وقت کے بھی پانچ سو عالم اس مسئلے میں امام صاحب کے مخالف تھے۔سیومؔ۔یہ ظریفانہ دلیل اگر صحیح ہے تو رکوع اور سجود وغیرہ میں بھی جاری ہو سکتی ہے۔اس کا بھی انکار کردو۔نماز روزہ حج وغیرہ میں ایک