فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 7
میں۔اور عبد اللہ۵ بن عمرؓ سے ابن ماجہ میں۔ابو۶سعید ؓ سے مسند احمد اور ابودائود اور ابن ماجہ میں۔اور ابوالد۷رداء سے نسائی اور ابن ماجہ میں۔اور ۸جابرؓ سے ابن ماجہ میں اور۹ علی سے بیہقی میں اور۰ عائشہ ؓ سے مسند احمد اور ابن ماجہ میں۔اورابو۱ ۱ ہریرہؓ سے ابودائود میں اور حاکم نے اشہب کے طریق سے ابن عیینہ سے اور اس نے زُہری سے اور اس نے محمود بن ربیع سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔اُمُّ الْقُرْآنِ عِوَضٌ مِّنْ غَیْرِھَا وَ لَیْسَ غَیْرُھَا عِوَضًامِّنْھَا۔(ترجمہ) فاتحہ الکتاب اَور کاعوض ہو سکتی ہے اور اَور چیزیں فاتحہ کا عوض نہیں ہوتیں۔اور حاکم نے کہا ہے اس حدیث کے سارے راوی ثِقہ ہیں بلکہ اکثر راوی امام ہیں۔اِنْتَہٰی مَا فِی النَّیْلِ وَ التَّلْخِیْصِ وَ النُّوَوِیْ وَالْبَدْرِ۔ان حدیثوں میں صاف اس امر کا بیان ہے کہ سورہ فاتحہ کے سوا کسی نمازی کی نماز جائز نہیں۔دارقطنی کی مرفوع حدیث میں تو عبادہ سے صریح لَاتَـجْزِیُٔ کا لفظ موجود ہے اور بخاری نے جُزْئُ الْقِرَائ َ ةِ میں جو جابربن عبد اللہ سے روایت کیا اس میں بھی یہ لفظ صریح ہے۔یُـجْزِئُ ہٗ اِلَّابِاُمِّ الْقُرْآنِ۔اس (نماز) کو اُمّ ُالقرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) ہی فائدہ پہنچاتی ہے۔)ایسا ہی ابن خزیمہ اور ابن حبّان کی مرفوع روایت میں صریح لَایَـجْزِئُ صَلٰوةٌ موجود ہے۔لَایَـجْزِئُ سے بڑھ کر اور کیا لفظ احادیث میں ہو جس سے آپ لوگوں کو عدمِ جواز اس نماز کے تسلی ہوتی جس میں فاتحہ الکتاب نہیں پڑھی گئی۔ہمیں تو اب کچھ بھی حاجت نہیں ہے کہ اور دردسری کرتے۔بَیت باغ مرا چہ حاجت سرو و صنوبر است شمشاد خانہ پرورِ ما از کہ کمتر است اِلَّاآپ کی تشفیّ اتنے پر شاید کیا یقیناً نہ ہو گی اس لئے اور بھی لکھنا پڑا۔( انشاء اللہ آپ سمجھیں تو سمجھیں ورنہ اور ہی کوئی فائدہ اٹھائے گا)۔فقرہ لَاصَلٰوةَ کی نفی میں گزارش ہے کہ اصل نفی میں نفیِ ذات ہے اور ذات کی نفی یہاں ممکن۔پس وہی مراد ہو گی اس لئے کہ ان احادیث میں نماز سے شرعی نماز مراد ہے نہ لغوی۔کیونکہ