فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 110
مكروهًا أو حرامًا بما لاح من الدلائل لايستلزم ذٰلك واني والله لفي تعجب شديد من صنيع من نقل هذا القول في كتبهم ساكتًا عليه ولم يحكموا بكونه غلطًا مردودًا وغاية ما قالوا أن عدم الفساد أصحّ ولم يحكموا بكونه صحيحًا وكون ما يخالفه غلطًا صريحًا وغاية ما أستدل أصحاب هذا القول الواهي ببعض آثار الصحابة كأثر من صلى خلف الإمام فلا صلاة له، وستعرف أنه مما لايحتجّ به ولا يستقيم الاستدلال به، وما ذكره السرخسيّ ومن تبعه أن فساد الصلاة مذهب عدة من الصحابة يقال له أيُّ صحابي قال بهذا وأيُّ مُخرّج خرّج هذا وأيُّ راوى روى هذا ومجرد نسبته اليهم حاشاهم عنه من دون سند مسلسل محتج بروايته مما لايعتد به۔{ FR 4684 } { FN 4684 } (انہوں نے یہ بھی کہا کہ) اور پانچویں بات یہ ہے کہ امام کے پیچھے قراءت کرنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے جیسا کہ انہوں نے دُرَرُ البحار میں اس کا ذکر کیا ہے اور (ان کی) اس بات کا زیادہ صحیح بات کے خلاف ہونا گزر چکا ہے۔پس ہمارے ساتھیوں کے یہ پانچ اقوال ہیں، ان میں سے سب سے زیادہ ضعیف اور کمزور ترین یہی ہے۔بلکہ یہ پانچواں قول تو اس مسئلہ میں پیش کیے جانے والے تمام اقوال میں سے سب سے زیادہ کمزور ہے۔اور یہ مکحول نسفی کی اُس شاذ اور مردود روایت کی طرح ہے جو اُس نے امام ابوحنیفہ سے نقل کی ہے کہ رکوع وغیرہ کے وقت رفع یدین کرنا نماز کو فاسد کرنے والا ہے۔اور ہمارے بعض بزرگوں کا اس پر اعتماد شوافع کی پیروی کےجواز سے انکار کی وجہ سے ہے۔اور یہ دونوں (باتیں) ایسے ردّ شدہ اقوال میں سے ہیں، جن کا جرح کے بغیر ذکر کرنا جائز نہیں۔اگرچہ ہمارے حنفی دوستوں کی بہت سی فقہی کتابوں میں ان کا ذکر کیا گیا ہے۔اور میں اپنے رسالہ ’’الفوائد البهية في تراجم الحنفية‘‘ اور اس پر اپنے حواشی بنام ’’التعلیقات السنية‘‘ میں اس کی وضاحت کرچکا ہوں، پس چاہیے کہ اسے غور سے دیکھا جائے، یہ محض میرا خیال نہیں ہے۔کیا کوئی عقل مند اُسے جس کا کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اکابر صحابہ کی ایک جماعت سے ثابت ہو، نماز کی خرابی کہہ سکتا ہے؟ اور اگر ہم فرض بھی کرلیں کہ یہ ثابت نہیں ہے نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور نہ آپؐ کے صحابہؓ سے، یا ثابت تو ہے لیکن منسوخ ہوگیا تھا تو اس کا منتہیٰ یہ ہوگا کہ یہ (امر) خلافِ سنت ہے یا مکروہ ہے پاکیزگی کی خاطر یا حرمت کی وجہ سے، اور اس سے نماز کا فساد لازم نہیں آتا۔بلکہ اگر ہم فرض کرلیں کہ یہ قطعی حرام ہے تو بھی اس سے نماز کی خرابی لازم نہیں آتی۔اور نماز میں ہر حرام کا ارتکاب اسے فاسد کرنے والا نہیں جب تک کہ وہ نماز کے منافی نہ ہو۔اور یہ معلوم (باتوں) میں سے ہے کہ فی ذاتہٖ قرآنِ کریم کی قراءت ہرگز نماز کے منافی نہیں ہے۔نماز تو ہے ہی ذکر، تسبیح اور قراءت۔کیا تم نے وہ روایت نہیں دیکھی جسے ابن جریر نے بسند کلثوم بن مصطلق (حضرت عبد اللہ) بن مسعودؓ سے روایت کیا۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں میرے سلام کا جواب دے دیتے تھے، پھر ایک دن میں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ کو سلام کیا مگر آپؐ نے مجھے جواب نہ دیا۔پھر فرمایا:پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے امر میں سے جو چاہتا ہے بیان فرماتا ہے اور اُس نے نماز کے متعلق تمہارے لیے یہ (نیا حکم) بیان فرمایا ہےکہ کوئی شخص (اس میں ) بات نہ کرے،