فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 107 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 107

جواب ۹۔حنفیہ کے اقوال اس مسئلہ میں مضطرب ہیں اور حنفیہ فی قلتین کی صحیح حدیث کو صرف مضطرب سمجھ کر باوجودیکہ اس میں اضطراب نہ تھا چھوڑ دیا تو حنفیہ کو اپنے علماء کا اضطراب اس مسئلہ میں دیکھ کر ان کے اقوال مضطربہ چھوڑ دینے تھے۔حنفیہ کا اضطراب فی الامام منہم من اکتفی بعدم القراءة و نفیھا و منھم من صرح بالنّھی ومنھم من کرھھا و منھم من قال بحرمتھا و منھم من تفوّہ بالفساد و منھم من استحسن۔{ FR 4682 }؂ جواب ۱۰۔قول بالکراہة بے دلیل ہے اور شرع لم یأْذن بہ اللہ۔چودہواں اعتراض علماء حنفیہ فاتحة الکتاب کا پڑھنا مفسدِ صلوٰة کہتے ہیں۔پس پڑھنا فاتحہ کا خلف الامام جائز نہ ہو گا۔پہلا جواب۔جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں۔لَاصَلٰوةَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ{ FR 5141 }؂۔اور لَایَجْزِیْ صَلوٰةٌ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ { FR 5143 }؂ اور لَایُقْبَلُ صَلوٰةٌ لِّمَنْ یَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ { FR 5145 }؂ اور وَلَاتَقْرَؤُا بِشَیْ ءٍ مِنَ الْقُرْآنِ اِذَا جَھَرْتُ اِلَّابِاُمِّ الْقُرْآنِ { FR 5146 }؂ جن اسناد پر { FN 4682 } ؂ ان میں سے بعض نے عدمِ قراءت اور اس کے ہونے سے انکار پر اکتفاء کیا ہے اور بعض نے صریحاً مناہی کا ذکر کیا ہے اور بعض نے اسے مکروہ جانا ہے اور بعض نے اس کی حرمت بیان کی ہے۔اور ان میں سے بعض نے اسے فساد کا موجب گردانا ہے اور بعض نے مستحسن قرار دیا ہے۔{ FN 5141 }؂ اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورہ فاتحہ نہ پڑھی۔(بخاري,كتاب الآذان, بَابُ وُجُوبِ القِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالمَأْمُومِ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا) { FN 5143 }؂ جس نے سورۂ فاتحہ نہ پڑھی اُس کی نماز ادا نہیں ہوتی۔{ FN 5145 }؂ وہ نماز قبول نہیں ہوتی جس میں اُمُّ القرآن یعنی سورۂ فاتحہ نہ پڑھی جائے۔(نیل الأوطار، کتاب اللباس، أبواب صفۃ الصلاۃ، بَابُ وُجُوبِ قِرسَاءَةِ الْفَاتِحَةِ) { FN 5146 }؂ جب میں (نماز میں) قراءت بالجہر کروں تو تم امّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) کے علاوہ قرآن سے کچھ نہ پڑھا کرو۔(ابو داؤد،کتاب الصلاۃ، بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهٖ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ)