فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 99
فَدَلَّ عَلٰى فَسَادِ مَا رُوِيَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ۔{ FR 5108 } سعد کے اثر پر ابن عبد البر نے کہا ہے حدیث مُنْقَطِعٌ لَا يَصِحُّ وَلَا نَقَلَهٗ جَـمَاعَةٌ۔{ FR 5109 } ابراہیم کے واہی قول پر امام بخاری نے کہا ہےلَيْسَ هٰذَا مِنْ كَلَامِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَمْلَأَ أَفْوَاهَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (معاذ اللہ)۔{ FR 5110 } پھر بخاری نے کہا ہے۔قَالَ حَمَّادٌ: وَدِدْتُ أَنَّ الَّذِيْ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ مُلِئَ فُوْهُ سَكَرًا۔{ FR 5111 } قیل والے حنفی صاحب اور سرخسی کے واسطے خود عینی ہی کا وہ قول جو اس نے خطبہ کتاب میں کہا ہے کافی ہے اور ہم ابھی ذکر کر چکے ہیں۔وعید کے آثار کا حال سن کر ایک منصف آدمی یقین کر سکتا ہے۔اگر ترجیح عدم قراءت فاتحہ کا موجب بھی آثار ہیں تو یہ ترجیح مرجوع ہے۔اِلاَّ جہاں تقلید شخصی کے جمود نے تحقیق سے دُور پھینک دیا وہاں بقول طولِ اہل وصال کیا ہو کم ہے شبِ ہجر کی درازی { FN 5108 } حضرت زیدؓ کے قول کے متعلق یہ بات ہے کہ جس نے امام کے پیچھے قراءت کی، اُس کی نماز مکمل ہے اور اسے دُہرانے کی ضرورت نہیں۔پس یہ بات حضرت زید بن ثابتؓ سے جو روایت بیان کی جاتی ہے اس کی خرابی پر دلالت کرتی ہے۔(الإستذکار لابن عبد البر، کتاب الصلاة، بَابُ تَرْكِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ) { FN 5109 } یہ حدیث منقطع ہے، صحیح نہیں اور نہ ہی اسے ثقہ راویوں نے نقل کیا ہے۔(الإستذکار لابن عبد البر، کتاب الصلاة، بَابُ تَرْكِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ) { FN 5110 } یہ اہل علم کا کلام ہرگز نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے منہ (نعوذ باللہ) ایسی چیزوں سے بھر جائیں۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ) { FN 5111 } حماّد نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ جو شخص امام کے پیچھے قراءت کرتا ہے اُس کا منہ شکر سے بھرجائے۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ)