فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 53 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 53

وَقَالَ مُسْلِمٌ: هُوَ صَحِيحٌ۔{ FR 4590 }؂ اس حدیث میں حکم ہے کہ جب امام قراءت پڑھے تو تم چپ کر رہو۔جواب۔باب تشہد میں ابوداؤد نے اس حدیث کو بیان کر کے کہا ہے اَنْصِتُوْا کا لفظ محفوظ نہیں سلیمان تَیمی کے سوا اس کی کوئی روایت نہیں کرتا۔پھر ابوداؤد نے باب اَلْاِمَامُ یُصَلِّیْ قَاعِدًا میں کہا ہے اِذَا قُرِأَ فَاَنْصِتُوْا کی زیادتی ہمارے نزدیک ابوخالد کا وہم ہے اور زَیلعی نے عمراور ابن عَروبہ سے بھی نقل کر کے کہا ہے کہ یہ حدیث ِ سلیمان سے اَشْھَر ہے اور بیہقی نے سنن کبرٰی میں کہا ہے۔ابوداؤد سے ہے کہ یہ زیادتی محفوظ نہیں۔ایسا ہی روایت کیا ابن معین اور ابوحاتم رازی اور دارقطنی اور حافظ ابو علی نیشاپوری حاکم کے استاد نے اور مسلم نے بھی اپنی کتاب میں اس کو مسند بیان نہ کیا اور سیوطی نے مصباح الزجاجہ میں کہا ہے ابوحاتم کہتے تھے کہ یہ کلمہ ابن عجلان کی تخالیط سے ہے اور روایت کیا اس کو خارجہ سے اور خارجہ قوی نہیں۔اور بیہقی نے کہا ہے اس لفظ کے خطا ہونے پر حافظوں کا اجماع ہے ان میں سے ابوداؤد ‘ ابن حاتم‘ ابن معین اور حاکم ہیں(عینی) اور بخاری نے جُزْءُ الْقِرَاءَ ةِ میں فرمایا ہے سلیمان نے اس زیادتی میں قتادہ کا سماع ذکر نہیں کیا اور قتادہ نے یونس بن جبیرکا اور ہشاّم اور سعید اور ہمام ‘ ابوعوانہ‘ اِباّن بن یزید‘ عبیدہ‘ قتادہ سے اِذَا قَرَأَ فَاَنْصِتُوْا کا ذکر نہیں کرتے اور اگر صحیح ہو تو ماسوائے فاتحہ کے محتمل ہے۔ترکِ فاتحہ میں یہ حدیث ظاہر نہیں۔پھر بخاری نے کہا ہے کہ فَاَنْصِتُوْا کی زیادتی ابوخالد احمر کی صحیح حدیث سے معلوم نہیں ہوتی اور امام احمد کہتے تھے کہ میں اسے دیکھتا ہوںتدلیس کرتا ہے(یہاں اگر کوئی جواب دینا چاہو تو وہی جواب ابن اسحاق کی تدلیس میں سوچ لینا) سہیل‘ ابوسلمہ ‘ ہمام‘ ابویونس‘ عثمان‘ اور کئی لوگوں { FN 4590 }؂ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام تو اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔پس جب وہ تکبیر کہے تو تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے تو خاموش رہو۔(صحاح ستہ میں سے) ترمذی کے علاوہ پانچوں نے اسے روایت کیا ہے اور امام مسلم نے کہا: یہ روایت صحیح ہے۔(نيل الأوطار، کتاب اللباس، أبواب صفة الصلاة، بَابُ مَا جَاءَ فِي قِرَاءَةِ الْمَأْمُومِ وَإِنْصَاتِهٖ إذَا سَمِعَ إمَامَهٗ)