فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 28 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 28

شہادتوں سے حدیث کا حال بھی کھل گیا اور ایک عمدہ بات بھی نکل آئی۔وہ یہ ہے کہ صاحبِ تلویح اس حدیث کی نسبت فرماتے ہیں کہ بخاری میں موجود ہے حالانکہ یہ حدیث بخاری میں بالکل موجود نہیں ہے۔یہ ہمارے حضرات احناف کے اصولی محققوں کا حال ہے۔فروعی محققوں کی حالت کو بھی اس پر قیاس فرما لیجیے۔کیونکہ قیاس آپ کے نزدیک حجتِ شرعیہ ہے۔سچ کہا ہے امام ملحاوی حنفی نے جو مقلّد ہوا وہ جاہل ہے یا متعصب (ایں قول حنفی ست) مولوی صاحب کے اصل استدلال کا۔دسواں جواب۔جمہور اَئمہ اسلام نے بھی عام کی تخصیص کو جائز رکھا ہے۔محصول میں ہے۔يجوز تخصيص الكتاب بخبر الواحد عندنا وهو قول الشافعي وأبي حنيفة ومالك رحمهم الله وقال قوم لا يجوز أصلا وقال عيسى بن أبان إن كان قد خص قبل ذالك بد ليل (مقطوع به جاز و إلا فلا وقال الكرخي إن كان قد خص بدليل) منفصل صار مجازا فيجوز ذلك وإن خص بدليل متصل أو لم يخص أصلا لم يجز وأما القاضي( أبو بكر رحمه الله إنه) اختار التوقّف۔{ FR 4509 }؂ اور ابن حاجب نے مسئلہ تخصیص عام کو بیان کر کے فرمایا ہے۔و بہ قالت الائـمة الاربعة { FR 4842 }؂ اور ارشاد میں ہے۔اِتَّفَقَ أَهْلُ الْعِلْمِ سَلَفًا وَخَلَفًا عَلٰى أَنَّ التَّخْصِيصَ لِلْعُمُوْمَاتِ جَائِزٌ، وَلَمْ يُخَالِفْ فِيْ ذَالِكَ أَحَدٌ مِمَّنْ يُعْتَدُّ بِهٖ وَهُوَ مَعْلُومٌ مِنْ هَذِهِ الشَّرِيعَةِ الْمُطَهَّرَةِ( لَا يَخْفٰى عَلٰى مَنْ لَهٗ أَدْنٰى تَمَسُّكٍ بِهَا) حَتّٰى قِيْلَ: (إِنَّهٗ) لَا عَامَّ إِلَّا وَهُوَ مَخْصُوصٌ، إِلَّا قَوْلُهٗ { FN 4509 } ؂ ہمارے نزدیک خبر واحد سے کتاب اللہ (کے کسی مضمون) کی تخصیص کرنا جائز ہے۔اور امام شافعی، امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمھم اللہ تعالیٰ کا یہی قول ہے۔اور ایک قوم نے کہا ہے کہ اصل (حکم) کے متعلق یہ جائز نہیں ہے۔عیسیٰ بن ابان نے کہا ہے کہ (خبر واحد سے) پہلے اگر قطعیت کو پہنچی ہوئی کسی دلیل سے تخصیص کی گئی ہو تو (خبرواحد سے مزید تخصیص) جائز ہے وگرنہ نہیں۔اور کرخی نے کہا ہے اگر کسی دلیل منفصل کے ساتھ مجازی معنی سے مختص کیا گیا ہو تو یہ جائز ہے اور اگر دلیل متّصل سے تخصیص کی جائے یا تخصیص حقیقی معنی کے متعلق نہ ہو تو جائز نہیں۔اور قاضی ابوبکرنے (اس معاملہ میں) خاموشی اختیار کی ہے۔(المحصول للرازی، الکلام فی العموم والخصوص،القسم الثالث القول فیما یقتضی تخصیص العموم، الباب الثالث فی التخصیص بالغایۃ، الفصل الرابع في تخصيص المقطوع بالمظنون) { FN 4842 }؂ اور اس کے متعلق چاروں اَئمہ نے بیان کیا ہے۔