فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 122 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 122

ھو العمل بأقوی الدلیلین ولیس مقتضی اقویھا القراءة۔{ FR 4698 }؂ فقیر۔ترکتَ ترجیح الھدایة و ذکرت کأنہ لیْس قولھا وبئس الترک و الرد وقد رأیت حال اقوی الدلیلین فیما سلف۔{ FR 4699 }؂ قال۔وقد روی عن عدة من الصحابة فساد الصلاة بالقراءة خلفہ فأقویھما المنع انتہٰی ملخّصًا۔انتہٰی۔{ FR 4700 }؂ فقیر۔وما اتبعتَ هٰٓؤُلَآءِ الصحابة وما رجـعت الفساد فـخالفتَ عدة من الصحابة وما اتبعت أقوی الأدلّة وما لـخصتَ اِلّا لہتک استارک۔فما نقول لک الا أین اسناد تلک الآثار، بین حتی انظر، او ینظر غیری من ذوی الأیدی و الأبصار۔{ FR 4701 }؂ قال۔وفی البناية منع المقتدی من القراءة مروی من ثمانین نفرًا من الصحابة قال صاحب الکافی مِنْهُمُ الْمُرتَضَى وَالْعَبَادِلَة۔وفی الکرمانی عن الشعبی ادرکت سبعین { FN 4698 } ؂ اور جو کچھ محمد (بن حسن) سے مروی ہے کہ وہ احتیاط کے پیش نظر اسے مستحسن کہتے تھے، تو ابن ہمام نے اسے ردّ کیا ہے جہاں انہوں نے کہا ہے کہ احتیاط امام کے پیچھے قراءت کرنے میں نہیں بلکہ قراء ت نہ کرنے میں ہے، کیونکہ احتیاط ایسا عمل ہے جو دونوں دلیلوں میں سے مضبوط ترین ہے، اور مضبوط ترین سے مقصود قراءت کرنا نہیں ہے۔{ FN 4699 }؂ تم نے ’’الہدایۃ‘‘ کی ترجیح کو چھوڑ دیا اور ایسے ذکر کیا کہ گویا یہ اس کا قول ہی نہیں۔اور یہ چھوڑدینا اور ردّ کردینا بہت ہی بُرا ہے۔حالانکہ تم دونوں دلیلوں میں سے مضبوط ترین دلیل کا حال جیسا کہ گذرا ہے دیکھ چکے ہو۔{ FN 4700 }؂ اور امام کےپیچھے قراءت سے نماز کا فاسد ہونا متعدد صحابہ سے روایت کیا گیا ہے۔پس خلاصۃً ان دونوں (دلیلوں) میں سے مضبوط رُکنا ہی ہے۔{ FN 4701 }؂ ا ور تم نے ان صحابہ کی پیروی نہیں کی اور نہ ہی تم نے فساد سے رجوع کیا، پس تم نے متعدد صحابہ کی مخالفت کی اور مضبوط ترین دلیل کی اتباع نہیں کی۔اور صرف اپنی پردہ دَری کروانے کو ہی اختیار کیا ہے۔پس ہم تمہیں صرف یہی کہتے ہیں کہ ان روایات کی اسناد کہاں ہیں؟ واضح کرو تاکہ میں دیکھ لوںیا میرے علاوہ صاحب دسترس اور صاحب بصیرت لوگوں میں سے کوئی دیکھ لے۔