فیشن پرستی — Page 24
پھر اس سوال کا جواب حضرت مصلح موعودؓ نے بھی بتلایا ہے کہ ہمیں کیسا اور کن لوگوں کا فیشن اختیار کرنا چاہئے اور فیشن ایجاد کرنے والے کون لوگ ہوتے ہیں۔فرمایا ہے: حضرت صاحب کا ایک الہام ہے۔زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے“ فیشن کے معنی ہیں طریق اور زندگی بسر کرنے کا راستہ۔ظاہر ہے کہ راستہ مقرر کرنے والے خاص لوگ ہوتے ہیں جس طرح اس ظاہری لباس کے فیشن کی ایجاد کے لئے چند لوگ ہوتے ہیں۔روحانی زندگی کے فیشن کے لئے بھی چند لوگ ہوتے ہیں۔یہ غلط خیال ہے کہ فیشن عام لوگوں کے رواج کا نام ہے بلکہ فیشن کے موجد عام لوگ نہیں ہوتے۔اس طرح روحانی زندگی میں بہت سے لوگوں کی پیروی نہیں کی جاتی بلکہ چند افراد کی اور وہ انبیاء و رسل اور اولیا ء ہوتے ہیں۔۔۔۔مگر حیرت ہے کہ لباس میں تو فیشن کی پیروی کی جاتی روحانیت میں ایسا نہیں کیا جاتا۔بلکہ الٹی جہلاء کی پیروی کی جاتی ہے۔۔۔اگر یہ دیکھا جائے کہ خدا اور اس کے رسول اور اولیاء نے کیا طریق مقرر کیا ہے تو ان کو زندگی کی مصیبتوں سے نجات ہو جائے مگر لوگ اس کی پابندی نہیں کرتے۔۔۔۔پس مومنوں کو چاہئے کہ زندگی کا فیشن مقرر کرنے کے لئے ان لوگوں پر نظر کرے جو اس فن کے ماہر اور واقف ہیں اور وہ انبیاء ورسل اور اولیاء وصلحاء ہوتے ہیں۔جو شخص اہل فنون کو چھوڑ کر نا واقفوں کے پیچھے چلتا ہے دکھ اٹھاتا ہے زندگی کو مبارک اور با آرام کرنے کے لئے ان کی ضرورت ہے۔“ خطبات محمود جلد سوم صفحه 133-132 ) 24