فیشن پرستی

by Other Authors

Page 9 of 30

فیشن پرستی — Page 9

بھی خلاف ورزی کر رہے ہوتے ہیں کہ اپنی زینتوں کو چھپاؤ۔فیشن میں بس ایسے ایسے عریاں قسم کے لباس سل رہے ہوتے ہیں۔کسی کو کوئی خیال ہی نہیں ہوتا۔تو احمدی بچوں اور احمدی خواتین کو ایسے لباسوں سے جن سے ننگ ظاہر ہوتا ہو پر ہیز کرنا چاہئے اور پھر فخر کے لئے لباس پہنیں گے تو دوسری برائیاں بھی جنم لیں گی۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی بچی ہر احمدی عورت کو ایمان کی پوشاک ہی پہنائے اور دنیوی لباس جو دکھاوے کے لباس ہیں ان سے بچائے رکھے۔اسی طرح مرد بھی اگر دکھاوے کے طور پر کپڑے پہنتے ہیں ، لباس پہن رہے ہیں تو وہ بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔صاف ستھرا اچھا لباس پہننا منع نہیں۔اس سوچ کے ساتھ یہ لباس پہننا منع ہے کہ اس میں فخر کا اظہار ہوتا ہو ، دکھاوا ہوتا ہو۔“ نگے سر پھرنے کا فیشن: خطبات مسرور جلد دوم صفحہ 9-8 مطبوعہ 2005 انڈیا) نگے سر پھرنا بھی نو جوانوں کا ایک فیشن ہے اور آج کل عورتوں میں بھی یہ وباء عام ہو رہی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس بارہ میں فرماتے ہیں : مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر ہمیں کوئی حرکت نہیں کرنی چاہئے۔مغربی تہذیب یہ سکھاتی ہے کہ ٹوپی کے اتارنے میں عظمت ہے۔لیکن اسلامی تہذیب یہ ہے کہ ٹوپی پہنی چاہئے۔یورپین تہذیب یہ کہتی ہے کہ عورت اپنے سرکو ننگا رکھے لیکن اسلامی تہذیب یہ سکھاتی ہے کہ عورت اپنے سر کو ڈھانک کر رکھے۔چنانچہ فقہاء نے اس بات پر بخشیں کی ہیں اور انہوں نے لکھا ہے کہ نماز میں اگر عورت کے سر کے بال ننگے ہوں تو اس کی نماز نہیں ہوتی۔پس میں نے انہیں کہا کہ آپ لڑکوں کو یہ بتائیں کہ اسلامی شعار ٹوپی پہنے میں ہے 9