فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 56
۵۶ قیامت تک نا ممکن ہو سنیئے ہادی اسلام نے فرمایا ہے۔(حلالے کی نسبت) عن على قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المحلل والمحلل لها - یہ حدیث مسند احمد میں ہے۔ترمذی اور ابن قطان اور ابن دقیق العید اور ابن اسکن نے اسکی تصحیح کی ہو۔اور یہ حدیث علی مرتضیٰ سے امام احمداور ترندی اور ابو داؤد اور ابن ماجہ نے روایت کی ہو اور حتی تنکح زوجا غیرہ میں وہ نکاح مراد ہو جس کو شریع اسلام نے جائزہ رکھا اور شرعی نکاح پر لعنت کا حکم نہیں لگ سکتا معلوم ہوا حلالہ شرعی نکاح نہیں۔اور متعہ النساء کی نسبت۔عل له على بن ابي طالب أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن متعه النساء تو مذی وغیرہ نے اس حدیث کی تصحیح کی اور حرمت نفت النساء پہ آنحضرت صلعم کے اصحاب کا یقین تھا۔ابن عباس قدیم ملکی روایات اور عادت کے باعث چند روز مجوز رہے جب انکو شرعی حکم کی اطلاع ہوئی تجویز متعہ سے رجوع کردی متعہ کی حرمت تمام حنفیہ اورشافعیہ اور مالکیہ اور حنابلہ اور اہلحدیث اور صوفیہ میں متفق ہے۔متعہ کی ابدی تحریم اگر دیکھنی ہو تو دیکھو مسلم اور بخاری اور ترمذی یہ بات قانون قدرت میں صاف صاف مشاہدہ کیجاتی ہو۔مختلف اسباب سے میاں بی بی میں جدائی کی نوبت پہنچتی ہے۔اور باہمی نہایت تنفر پیدا ہو جاتا ہے۔گو اسلام نے جدائی کی روکیں رکھی تھیں اور فرمایا۔ا انْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ - اس آیت میں حکم دیا بی بی کو قبل نکاح پسند کر لو۔پھر نکاح کرد اور فرمایا۔وَعَاشِرُوا هُنَّ بِالْمَعْرُونِ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا ے روایت ہے علی مرتضیٰ رضو سے لعنت کی رسول اللہ نے حلالہ نکالنے والے اور نکلوانے والے پر ۱۳ علی مرتضیٰ سے روایت ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا عورتوں سے متعہ کرنا لا سل تو نکاح کرو جو تم کو خوش آویں عورتیں " ہے اور گذران کر عورتوں کے ساتھ معقول جولوگوں میں پسندہوں پھراگر وہ تم کو نہ بھاویں۔توتم کو نہ بھاوے ایک چیز اور اللہ رکھے اس میں بہت خوبی ۱۲