فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 428 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 428

تیر هوس است تیرهو دار العلو فاحشة قالوا وجدنا عليها ابانا الله أمَانَا بِهَا قُلْ إِنَّ اللهَ لا يَا في بالفشار سپاسه د سوره اعراف سی کو بیع ۳-۔۔۔۔شاء الـ لهم سيقولُ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اشْتَرَكْنَادَها اَبَا نَادَ من شيء كذالك الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتَّى ذَاتُوا بِأَسَنَاء قُلْ هَلْ عِندَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتَخْجُونُ لَنَاسِ مِن تَتَّبِعُونَ إلا الفن وان انتم لا تحرمون ، قُل فَللَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَكَوْا شَكَرَ الَهَا كُمْ أَجْ سی پایه سوره انعام - ع ۱۸ اپنے آپ کو مجبور کہنے والوں کو کیسے کیسے سخت جواب دئے ہیں بلکہ یہ بھی کہ دیاکہ جو سمجھنے والے یکے جھوٹ بولتے ہیں میرے ایک دوست فرماتے ہیں تها كم اجمعين ما قبل کے خلاف معلوم ہوتا ہے افسوس انہوں نے نہایت لطیف بات نہ بھی باریتعالی واتا ہے اگر ہم جو کرنے کو ہوتے اور خواہ مخواہ کسی کوایک طرف لگانا چاہتے تو ہماری ذات بابرکات کس کو گمراہ نہ بناتی بھی جاہل اور چھوٹے شخص کا خیال ہے ہم مجبول کرتے تو سب کو خواہ مخواہ ہدایت پر چلنے کیلئے پیدا کردیتے اور جیسے تندرست آنکھ کو دیکھنے کے لئے پیدا کیا ہے۔اس لئے وہ دیکھتی ہے سُن نہیں سکتی۔اور کانوں کو سننے کے لئے بنایا ہے اور وہ دیکھ نہیں سکتے۔ایسے ہی اگر تمام لوگ ہدایت کے لئے بنائے جاتے ا اور جب کریں کچھی کام کہیں ہم نے پایا اس پر اپنے با او اور ان کی ایک کم کیا تو کہ کہ دل شکم نہیں کرنا عیب کے کام کو ۱۳ اور کہتے ہیں گر چاہتا میں ہم نہ پوجتے ان کو کچھ خبر نہیں ان کو اس کی یہ سب انگلیں دوڑاتے ہیں ۱۴ لے جب کہیں گے مشرک اگر اللہ چاہتا تو شریک نہ ٹھہراتے ہی نہ ہو اس پاپ اور حرام کرلیتے کوئی میر اس پر پہنائے گئے اُن سے لکھے جب تک لکھا مارا عذاب توکی کے علم بھی ہے تمہارے پاس کہ ہمارے آگے نکالو میری اکل پر چلتے ہو تجویزیں کرتے ہو تو کہ یہ اللہ کا الزام پورا ہے اگر وہ چاہتا تو و دو یا تم سب کو اور