فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 356
میں کیا لکھوں اُنکے حالات اور کمالات سے قطع نظر کر کے اگر زوائد اور رسومات کو نظر انداز کیا۔جائے تو قرآن کے عام پیروؤں میں جاہل سے جاہل اور انتھی کیوں نہ ہو۔جیسی تو حید کی زبر دست جڑ لگی ہوئی ہے۔کسی اہل مذہب میں اس کی نظیر نہیں۔اور اسی لئے وہ واجب التعظیم شخص جسپر ایسی کامل اور مکمل کتاب نازل ہوئی۔واجبی او حقیقی استحقاق خاتم الانبیاء والمرسلین ہونے کا رکھتا ہے۔اسرائیلی انبیاء برابر فرشتوں کے آگے سجدے کرتے اور انکو مالک اور خدا وندیپکار پکار کر اپنا محمد اور معاون جانتے۔اور اُنکے آگے قربانیاں گذرانتے رہے۔دیکھو یشوع کے وقت یشوع نے آنکھ اوپر اٹھائی تو دیکھا۔ایک شخص تلوار کھینچے ہوئے کھڑا ہے کہ میں خدا دند کے لشکر کا سوار ہو کے آیا ہوں۔تب یشوع زمین پر اوندھا گیا۔اور سجدہ کیا۔اور اس سے کہا۔میرا ملک اپنے بندے کو کیا ارشاد فرماتا ہے۔خدا کے لشکر کے سردار نے یشوع کو کہا۔اپنے پاؤں سے جوتی اُتار کیونکہ یہ مقام جہاں تو کھڑا ہے مقدس ہے۔محمد صلم کی تکمیل یہ تھی کہ توحید الوہیت کے وعظ سے جسے توحید فی الْعِبَادَتْ کہتے ہیں۔اپنی بات کے ماننے والوں کو پورا موحد بنا دیا۔فِدَاهُ أَبِى وَ أُمي اور ساد خدائی پرستش کے کام کو تعلیماً پورا کر دیا۔اس میں سے قول کی شہادت موسی کے بعد یہود کی عام حالت اور محو صلعم کے بعد عرب کی حالت مقابلہ کرنے سے ظاہر ہوتی ہے۔موسیٰ علیہ السلام پہاڑ پر تشریف لے گئے۔اور اُنکے پیچھے بچھڑو کی پرستش شروع ہو گئی۔بلکہ عیسائی عالموں کے نزدیک حضرت ہارون جیسے کاہن گوسالے کے بنانے والے ٹھیرے۔اور کتاب قضات کے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ بنی اسرائیل کیسے جلد جلد مرتد ہو جاتے تھے۔بخلاف اس کے عرب کے لوگ تیرہ ستر برس گزر گئے۔اب تک بت پرستی کے ه ۵ باب ۱۵ شمع ، باب خروج ۹۔اور خروج ۱۴ باب ۱۲۱۶