فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 355
۳۵۵ الم تَرَ إِلَى الَّذِينَ أوتُوا نَمِي مِنَ الكتبية منون بالجبت والطاغوت سیپاره ۵ سوره نساء - اکوع ۸ - کی صدا عرب سے نہ سنی۔عنوان نبی ناصری کی بڑی کوششوں اور محنتوں اور تکالیف بلکہ جا افشانیوں کو میں کس کامیابی کا بناؤں۔جبکہ وہ آپ اور اُس کی ماں دونوں کو معبود قرار دیئے گئے مسیح تو عموما تمام عیسائیوں کے معبود ہیں اور انکی والدہ خصوصا رومن کیتھونک کے یہاں پوجی جاتی ہیں۔بیشک انبیاء علیہم السلام کی تعلیم اس تکمیل کی محتاج تھی کہ وہ اپنی خالص عبودیت کو است وہ دینی تعلیم کا ضروری جز و قرار دیتے۔اس ضرورت کو صرف قرآن اور محہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کی تعلیم نے پورا کیا۔اسی فقرے کے اثر نے عرب جیسے خالص بت پرست، ملک سے بت پرستی کا استیصال ہی نہیں کیا۔بلکہ یہود بھی چونک اٹھے۔با اینکہ ہمیشہ مرتد ہو جاتے اور بت پرستی کرتے تھے۔جیسے قاضیوں کی کتاب اور اُنکے بچھڑوں کی پرستش کرنے وغیرہ امور سے ظاہر ہے۔اور آریہ کے معزز باشند سے دھوئی کرنے لگے کہ ہمارے مقدس وید ثبت پرستی کے دشمن اور توحید خالص کے حامی ہیں۔پانچویں ضرورت خدا کی تو حید ذاتی اور توحید صفاتی کی تعلیم سے توحید ربوبیت کہتے ہیں اجمالا ور علما تمام تا ریخی مذاہب میں موجود ہے۔اور ان مذاہب کے پیرو باری تعالے کی یکتائی ذات اور صفات میں بے شک ظاہر کرتے ہیں۔اور اس کے مقر ہیں۔الا وحید الوہیت کے پر تاثیر اور کامل واعظ حضرت قرآن کو اس فخر کا تاج پہنایا گیا۔کہ اس نے ہر تہ اقسام توحید کو ہزاروں پہلوؤں اور مختلف انداز بیان سے مکمل کر دیا مخفقوں اور علمائے اسلام کا حال ان تو نے نہ دیکھے جن کو سنا ہے کچھ حصہ کہ آپ کا منتے ہیں ہوں اور شیطانوں کو۔